79 views

اباسین کی کچھ تصاویر

002

Picture 1 of 6

 معاشرہ
151 views

جمپنگ جینز ، عقل اور راجہ گدھ

گزشتہ دنوں پتہ نہیں‌کتنویں‌مرتبہ راجہ گدھ ختم کی تو ایک عجیب سا ملال تھا ذہن پہ۔ اب کے یہ کتاب، یا یہ ناول زیادہ بہتر سمجھ میں‌ آیا۔ گو کہ کچھ باتیں‌ایسی تھیں کہ میں‌نے انھیں فکشن کے کھاتے میں‌ڈال کر آگے گزر جانا چاہا، مگر کوئی چیز تھی جو مجھے ایسا نہ کرنے پر اُکساتی تھی۔راجہ گدھ میں، جہاں تک میں‌سمجھا ہوں، مصنفہ نے حلال اور حرام کی تھیوری پر روشنی ڈالی ہے۔ اب تک میں‌سمجھتا چلا آ رہا تھا، کہ ایک علمی خاندان سے تعلق ہونے کی وجہ سے مجھے بہت کچھ پتہ ہے، مگر اس ناول نے یہ غرور بھی توڑ دیا۔ مصنفہ نے بہت اچھے طریقے سے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ اگر اسلام میں، اللہ رب العزت نے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے تو اس کی وجہ ہے، اورحرام اختیار کرنے سے، آخرت میں‌جو کچھ ہوگا وہ اپنی جگہ پر، دنیا میں‌بھی اس کی عجیب سزا ملتی ہے۔

گو کہ ایک دو باتیں‌ایسی ہیں‌کہ میں ان کی تشریح‌ بانو قدسیہ صاحبہ سے خود جاننا چاہوں‌گا، مگر وہ بعد کی بات ہے۔ موضوع کی طرف آتے ہیں۔ اگر میں ناول کا وہ حصہ ،جو میرے اس مراسلے کی بنیاد بنا، اقتباس کی صورت میں‌پیش کروں‌ تو یہ مراسلہ بہت لمبا ہو جائے گا، لہٰذا میں‌خلاصہ پیش کرنے پر ہی اکتفا کروں‌گا۔
خلاصہ کچھ یوں‌ہے کہ ، ناول کا ہیرو جب اپنے اس پروفیسر سے بہت عرصے بعد ملتا ہے جس سے وہ کافی مرعوب رہتا تھا تو یہ جان کر حیران رہ جاتا ہے کہ اس پروفیسر کے پاس ہمیشہ کی طرح کوئی نئی تھیوری ہے دوسروں‌کو مرعوب کرنے کے لئے۔ اور اس مرتبہ پروفیسر کا کہنا ہے کہ رزق حرام انسانی جینز یا جینیاتی بنیاد میں‌تبدیلیاں‌لاتا ہے، توڑ پھوڑ کے ذریعے۔ حرام رزق کی شکل میں‌ہو یا کسی اور شکل میں، اس کا نتیجہ ایک سا ہوتا ہے، جینیاتی مادے میں‌ایسی توڑ پھوڑ جو کہ بعد میں‌میوٹیشن کی صورت میں‌نظر آتا ہے۔ اور نسل انسانی مین دیوانگی کی ایک وجہ یہ حرام ہے۔ حرام کا ارتکاب، یا اکتساب دیوانگی پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے کچھ کلمات یا افعال کے ذریعے رزق کو حلال بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حلال رزق جب خون میں‌شامل ہوتا ہے تو یہ ایک مثبت اثر پیدا کرتا ہے۔ حرام رزق منفی اثر پیدا کرتا ہے۔
یہ تو بہر حال مصنفہ کی سوچ تھی۔

میری توجہ مبینہ طور پر پروفیسر سہیل کی تھیوری نے لے لی۔ میں‌نے سوچا کیا واقعی ایسا ہونا ممکن ہے؟ مرحوم اشفاق احمد نے کئی مرتبہ نور والوں کے ڈیرے کا ذکر کیا، تو ہو سکتا تھا کہ بانو صاحبہ نے بھی اس ڈیرے سے کوئی فیض حاصل کیا ہو۔ میں نے اپنی کتابیں‌ کھولیں‌مگر شائد میں‌غلط جگہ تلاش کر رہا تھا اس لئے میں اس حرام و حلال کی نئی تھیوری کی ‌کوئی سائنسی توجیہ کرنے میں‌ناکام رہا۔

الیکشن میں‌جیت کے بعد اپنے ایک محترم استاد کی صحبت میں‌بیٹھنے کا موقع ملا تو میں‌نے یہ بات چھیڑ دی۔ ان سے پہلے بھی راجہ گدھ کے بارے میں‌بات ہوئی تھی اور انھوں‌نے مشورہ دیا تھا کہ اگر میں‌اسے اچھی طرح سمجھنا چاہوں‌تو اسے بار بار پڑھوں۔ چونکہ اب کچھ سمجھ آگیا تھا، لہذا ان پر رعب ڈالنے کا سنہری موقع تھا۔
میں‌نے بڑے جوش سے بات کی اور مکمل کرنے کے بعد ان کی طرف دیکھا کہ اب یہ کچھ کہیں‌گے ، مگر استاد بالآخر استاد ہوتا ہے، انھوں نے مجھے باربرا مکلنٹوک کی جمپنگ جینز والی تھیوری پڑھنے کا مشورہ دیا۔

باربرا مکلنٹوک نے 1950 میں مکئی کے پودے پر اپنی تحقیق کے بعد یہ تھیوری پیش کی کہ مکئی کے ایک ہی بھٹے ، یا سٹے، جیسا کہ ہم اسے جانتے ہیں ، میں‌ بعض‌اوقات موجود مختلف رنگوں‌کے دانوں‌کی موجودگی ٹرانسپوزونز کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ ٹرانسپوزونز جمپنگ جینز بھی کہلاتے ہیں۔ باربرا مکلنٹوک کو 1983 میں اس تحقیق کی وجہ سے نوبیل انعام ملا۔

وکی پیڈیا کے مطابق ہی :

Transposons are sequences of DNA that can move around to different positions within the genome of a single cell, a process called transposition. In the process, they can cause mutations and change the amount of DNA in the genome. Transposons were also once called jumping genes, and are examples of mobile genetic elements. They were discovered by Barbara McClintock early in her career, for which she was awarded a Nobel prize in 1983.

اس حرکت کا فائدہ بھی ہوتا ہے اور نقصان بھی۔ یہ ربط دیکھئے۔

شائد یہ ربط بھی کچھ مفید ثابت ہو۔

یہ جمپنگ جینز پیدا کیسے ہوتے ہیں،اس پر آگے چل کر بات کریں‌گے۔ البتہ گوگل نے یہ دلچسپ ربط میرے سامنے لا رکھا۔تازہ ترین خبر ہے یہ بھی۔
بانو قدسیہ کی کتاب تو پہلی مرتبہ کوئی پچیس برس قبل شائع ہوئی تھی۔مگر 25 جون 2010 کو شائع ہونے والی اس خبر میں‌کہا گیا ہے کہ

Stretches of DNA known as "jumping" genes are far more common than anyone thought, and almost everyone has a unique pattern of them, U.S. researchers reported on Thursday

That people have transposons is not new. "Forty-five percent of the genome is known to be transposon sequences," Devine said. But most hopped in and are now inactive, passing down unchanged and in place from one generation to the next. "What we are interested in are the ones that are moving around today. We found an average of 15 new insertions per person," Devine said in a telephone interview.

CHEAPER NEW TECHNOLOGY

New genetic sequencing technology made it possible to find these transposons. It costs thousands of dollars to map an individual's genome, the entire genetic sequence, but companies such as Illumina , Life Technologies , Roche and others are driving the price down.
Devine's team used Roche's 454 sequencer to find 1,145 new inserted transposons that had not been documented before.
They developed a genetic probe that would target only these active jumping genes and estimated a new insertion is happening with each generation.
The human genome has 3 billion so-called base pairs - the A, C, T and G of the genetic code. "This could affect every base pair somewhere on the planet," Devine said

ہے نا دلچسپ۔ انسانی جنوم کی میپنگ کے بعد، جس میں‌3 ارب کے قریب بیس پئیر ہیں، ان سائنسدانوں‌کو نئے جینز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آپ کے ذہن میں میری طرح‌یہ سوال اٹھ رہا ہوگا کہ آخر یہ ٹرانسپوزونز پیدا کیسے ہوتے ہیں، اس سوال کی کوئی سائنسی یا عقلی توجیہ ہو سکتا ہے ممکن ہو۔

مگر پھر اس سب کے بعد ایک ہی جواب سامنے آتا ہے:

The first question has two corollaries: (a) What is the ultimate origin of transposable elements? (b) How were the thousands of copies generated?
The ultimate origin of transposons is unknown, but retrotransposons are believed to have derived from retroviruses.

تو ان جمپنگ جینز کا مآخذ یا منبع کیا ہے؟ ابھی تک شائد کو ئی جان نہیں‌پایا۔ کیا کوئی مستقبل میں‌جان پائے گا؟ ہم دعویٰ نہین کر سکتے۔ واپس موضوع کی طرف آتے ہیں،
یہ سب سائنسی توجیہ اپنی جگہ پر، کیا مذہب اس سب کی تشریح کر سکتا ہے؟ سائنس تو یہ کہتی ہے کہ جمپنگ جینز محض جمپنگ جینز ہیں‌اور یہ ڈی این اے میں‌ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتے ہیں، جہاں‌تک میرا مطالعہ ہے، اس حرکت کی کوئی توجیہ نہیں‌کی گئی کہ کونسے عوامل اس حرکت کا باعث بنتے ہیں ، بس یہ بتایا گیا ہے کہ جینز کی اس حرکت کی وجہ سے بہت سی نئی چیزیں دیکھنے میں‌آتی ہیں۔ نئی بیماریاں، مکئی کے نئے رنگ، شائد دیوانگی بھی؟؟؟

متذکرہ بالا آخری ربط میں‌اس پر ایک چھوٹی سی بحث‌ بھی کی گئی ہے کہ آخر ان جمپنگ جینز کا فائدہ کیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا۔

اب میں اس طویل تمہید کے بعد اپنی بات پر آنا چاہوں‌گا۔ کیا بانو قدسیہ نے باربرا مکلنٹوک کی اس تھیوری کو مذہبی نقطہ نظر سے دیکھ کر یہ فیصلہ کیا ہوگا کہ ہمارے اعمال دراصل ان جمپنگ جینز کی حرکت کا باعث بنتے ہیں؟ حرام رزق یا حرام کا اکتساب جین کی میوٹیشن کا سبب بنے اور حلال رزق جین کے سدھرنے کا؟
کیا بانو قدسیہ نے یہی سوچ کر یہ ناول لکھا ہوگا، یہ تو وہی بہتر بتا سکتی ہیں۔

اگر حرام رزق سے جین کے بگڑنے کی بات مان لی جائے تو پھر یہ بھی ماننا ہوگا کہ توبہ الی اللہ سے یہ میوٹیشن ٹھیک ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کلام الٰہی سے بیماریوں کا علاج بھی ہو سکتا ہے؟ قرآنی آیات کے بطور تعویذ استعمال سے فائدے کو ثابت بھی کیا جاسکتا ہے؟ اس تھیوری کو ٹیسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایک گنہگار، رزق حرام پہ پلنے والے انسان کے جینوم کا مطالعہ کر لیا جائے اور پھر اگر اللہ نے اسے سچے دل سے توبہ کی توفیق دی تو دوبارہ اس کے جینوم کو دیکھ لیا جائے۔ انٹرسٹنگ!!!‌اگر بالفرض‌کوئی سچے دل سے توبہ نہیں بھی کرتا اور صرف رزق حرام سے اجتناب کرتا ہے تو اس کے جینوم کا ارادے کے فورا بعد، ایک دن بعد، سات دن بعد، اور چالیس دن بعد مختلف نمونوں‌سے معائنہ کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ جمپنگ جینز تھیوری کا بانو قدسیہ کی رزق حرام والی تھیوری سے کیا تعلق ہے۔ کیا دونوں خواتین غلطی پر ہیں‌یا کوئی ایک درست ہے؟

عقل کے گھوڑ ے کو جتنا دوڑائیں، دوڑے گا، ثبوت کون لائے گا؟

مرحوم اشفاق احمد اپنے ڈرامے من چلے کا سودا کی ابتدا میں کہتے ہیں:

ہمیں اب سائنس کو مذہب اسلام کی نگاہ سے دیکھنا ہی پڑے گا۔ پتہ نہیں‌مذہب اسلام سائنس سے کس مقام پر جدا ہوتا ہے۔ یا ہوتا ہی نہیں؟

 اردو اور بلاگ نویسی, ایبٹ آباد, تازہ ترین, حاصل مطالعہ, متفرقات, معاشرہ, ڈاکٹرز
41 views

رمضان کی مبارکباد

واپڈا، پاکستانی کرکٹ ٹیم، حکمرانوں، اور جعلی ڈگریون والوں کے علاوہ، سب کو تہہ دل سے رمضان کی آمد کی مبارکباد۔
دعاوں میں یاد رکھئے گا۔
 معاشرہ
71 views

الیکشن کا نتیجہ

آج ۱۰ اگست ۲۰۱۰ کو ایوب میڈیکل انسٹیٹیوشن میں دوسرے تاریخ ساز الیکشن ہوئے۔ اس الیکشن میں گزشتہ کابینہ کے صدر نے ایک نئی کابینہ اپنی صدارت میں ڈیموکریٹس کے نام سے نامزد کی اور ان کے مقابلے میں ہم گرینڈ ڈاکٹرز الائنس کے نام سے میدان میں اترے۔

گرینڈ ڈاکٹرز الائنس ایک سوچا سمجھا اتحاد نہ تھا۔ ہم، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خود اپنے نام سے الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے، مگر بہت سے زمینی حقائق کے پیش نظر ہمیں یہ ارادہ ترک کرنا پڑا اور ہمیں دوسری جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک گرینڈ ڈاکٹرز الائنس بنانا پڑا۔ اس میں ہمارے ساتھ ہزارہ میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اور پیپلز ڈاکٹرز فورم شامل ہوئے۔

کابینہ کے نامزد کردہ ارکان بھی اسی تناسب سے شامل کئے گئے۔ ہم نے ڈاکٹرز اتحاد کی خاطر صدارت ہزارہ میڈیکل ایسوسی ایشن کے نامزد کردہ رکن کے حوالے کی ، حال آنکہ اس فیصلے سے ہمارے بہت سے ارکان کو اختلاف تھا۔ ہمارے بہت دوست اس فیصلے پر ہم سے ناراض ہوئے، مگر ہمیں وسیع تر تناظر میں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ یہ ایک کڑوا گھونٹ تھا جو ہم نے اس لئے پی لیا کہ ڈاکٹرز اتحاد پارہ پارہ نہ ہو۔ دوسری اتحادی جماعتوں نے بھی ایک ایک رکن نامزد کرنے پر اکتفا کیا اور یوں کابینہ میں سات نشستیں ہمارے حصے میں آئیں۔

آج انتخابات بہت پر امن ماحول میں ہوئے اور چھے بجے کے آس پاس جب ووٹوں کی گنتی ختم ہوئی تو لوگوں کو علم ہوا کہ ہم نے ۴۰۳ ووٹ حاصل کئے اور ڈیموکریٹس نے صرف ۲۶۹ ووٹ۔ یوں اگلے دو سال تک ہم نے پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی نمائندگی حاصل کرنے کا حق لے لیا۔

کچھ زیادہ لمے  چوڑے وعدے نہیںکئے ہم نے۔ صرف اپنی گزشتہ کارکردگی ووٹران کے سامنے رکھی اور ان کا اعتماد حاصل کر لیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اگلے دو سال ہمیں اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق عطا کرے۔ اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

 معاشرہ
79 views

ایک ملاقات

آج ایوب میڈیکل انسٹیٹیوشن کے ڈاکٹرز کی ایک جنرل باڈی میٹنگ سے فارغ ہوا تو کافی تھک گیا تھا۔ الیکشن کے سلسلے میں بلائی گئی اس میٹنگ میں تقریبا تین سو کے لگ بھگ ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ میرے ذمہ ایک پاور پوائنٹ سے لدی پھندی گفتگو کا اہتمام کرنا تھا جس میں گزشتہ کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔
یہ سب سے آسان کام تھا۔ دس کے قریب سلائیڈیں بناو اور ہر ایک کے درمیان میں ۹۶ سائز کے فانٹ میں ایک سوالیہ نشان ڈال دو۔

انھوں نے کچھ کیا ہی نہیں جو مجھے لکھنا پڑتا۔
بہر حال ، سب مہمانوں کے جانے کے بعد میں تھکا ہارا کینٹین کے سامنے موجود درختوں کے نیچے ایک کرسی تک جا پہنچا اور جیسے ہی میں بیٹھا، کسی نے میرا نام لیا۔ میں نے آواز کی سمت دیکھا تو ایک باریش صاحب کسی سے کہہ رہے تھے، کہ وہ منیر عباسی سے بات کر لیں گے۔ بے فکر رہیں۔ اب میں حیران ہوا کہ یہ کون ہیں جو منیر عباسی کو اتنے اچھے طریقے سے پہچانتے ہیں کہ کسی کا کام کروا دیں گے اورمیں ہوں کہ انھیں جانتا ہی نہیں۔
بہر حال اس جملے کے بعد اس لڑکے نے میری طرف اشارہ کیا کہ منیر عباسی صاحب تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان صاحب نے چونک کر میری طرف دیکھا اور تصدیق چاہی۔ میں نے تصدیق کر دی اور کرسی کھسکا کر ان کے نزدیک ہو گیا۔ کام تو جو بھی تھا، وہ میں کر نہ سکتا تھا۔ مگر علم ہوا کہ وہ بنگش صاحب ہیں۔ مقصود احمد بنگش صاحب۔ ان کا غائبانہ تعارف مجھ سے کافی مرتبہ کیا گیا تھا، مگر ایک ہی شہر میں ہوتے ہوئے ان سے ملاقات کا یہ پہلا موقع تھا۔ گفتگو آگے بڑھی تو میں نے ایک شک کی بنیاد پر ان سے پوچھا کہ کیا وہ عمر احمد بنگش کو جانتے ہیں، مانسہرے والا عمر بنگش؟؟؟ تو انھوں نے جو جواب دیا اس نے مجھے چکرا دیا۔

ہمارا عمر لالا المعروف عمر احمد بنگش ان کا سب سے چھوٹا بھائی نکلا!!!!!!!

زیادہ باتیں کرنے پر علم ہوا کہ انھوں نے فیس بک پر مجھے دیکھا تھا، مگر اس سے پہلے کہ مجھ سے رابطہ کرتے، میں اپنا فیس بک اکاونٹ ڈیلیٹ چکا تھا۔ تا ہم ہم دونوں نے  ڈفر پر سیر حاصل گفتگو کی اور پھر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے کہ ڈفر کون ہے۔
ان کا شک یہ تھا کہ شائد ڈفر میرا کو ئی قریبی ہے۔ میں نے کہا، کیا میں شکل سے ایسا دکھتا ہوں؟  ہیں جی؟؟؟

بہر کیف مقصود صاحب سے ملاقات بہت اچھی رہی اور میں جو تھکا ہارا تھا، تین ساڑھے تین گھنٹے مسلسل وہیں بیٹھا باتیں کرتا رہا۔ وقت پتہ نہیں اتنی جلدی کیسے گزر جاتا ہے۔۔۔

اوپر تصویر میں دائیں سے بائیں ڈاکٹر رفیع رضا ، ڈاکٹر توقیر شاہ اور مقصود احمد بنگش۔

 اردو اور بلاگ نویسی, ایبٹ آباد, ایوب میڈیکل کالج, سیاست, متفرقات, معاشرہ
89 views

Say No to Talibanisation

پچھلی صدی کی آخری دہائی میں طالبان تحریک کے ابھرنے کے بعد سے ہمارے خطے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور ان تبدیلیوں میں ایک اصطلاح طالبانائزیشن کا استعمال بھی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے علم نہیں اس اصطلاح کے استعمال کرنے والے اس سے کیا مراد لیتے ہیں۔ مگر اسے میں باقی نفرت آمیز اصطلاحوں میں سے ایک شمار کرنا چاہوں گا۔ یعنی جب کسی کی توہین کرنا چاہو، خصوصا جو شخص حلیے یا خیالات کے اعتبار سے لچک دکھانے پر آمادہ نہ ہو تو
اسے طالبان کہہ کر دھتکار دو۔

اس اصطلاح کا استعمال کراچی میں بہت ہوتا ہے، اور خصوصا ۲۰۰۸ کے الیکشن کے بعد سے تو بہت زیادہ ہو رہا ہے جب اے این پی نے ۲ نشستیں کراچی سے جیت
لیں۔ کراچی کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا۔ اور اگر کراچی میں پٹھانوں کی آمد کو کسی طریقے سے روکا نہیں جاتا تو کچھ سالوں بعد کراچی میں شائد اے
این پی، لسانی بنیادوں پر ہی، کیونکہ باقی سیاسی جامعتوں کی طرح اس کے پاس بھی کوئی کام کا ایجنڈا نہیں ہے، دو سے زیادہ سیٹیں جیت سکتی ہے۔ اور طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے شہر میں۔ اس کا نتیجہ اور کچھ نہیں‌ہوگا مگر اور لسانی فسادات ہوں‌گے۔ اس لئے طالبانائزیشن کا ہوا کھڑا کرنا انتہائی مناسب بات ہے۔ اب اس کے ساتھ
ساتھ اگر ڈرگ، لینڈ، ٹرانسپورٹ اور پتہ نہیں کیا کیا مافیا کا تڑکا بھی لگا دیا جائے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہو جائے۔

یہ سب تمہید تو عادت سے مجبور ہو کر میں کر گیا ، یہ مراسلہ لکھنے کی اصل وجہ وہ ایس ایم ایس بنا جو ہمارے مخالفین آج کل کی سیاسی مہم میں ہمارے خلاف بڑے جوش و خروش سے چلا رہے ہیں۔ آپ بھی ملاحظہ کیجئے:

Do You want Ayub Medical Institution Environment to be polluted by Politics, Racism, Linguistics, Nationalism, & Talibanisation? If NO... Solution is simple... VOTE for Democrats

مجھے سمجھ نہیں آتی، نیشنلزم ، اور پالیٹکس اگر نہ ہوں تو پھر سیاست کا کیا فائدہ۔ لگتا ہے ایس ایم ایس بنانے والے کوخود بھی نہیں پتہ کہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے۔ ہمارا تو انتخابی نشان سٹیتھو سکوپ ہے ، اور چونکہ مخالفین کا انتخابی نشان باز ہے ، تو میں تو ہر ڈاکٹر کو یہی کہتا ہوں کہ وہ سٹیتھو سکوپ کو ایک جانور پر ترجیح دیں۔

دیکھیں کیا ہوتا ہے۔۔۔ امید ہے ہمارے تعلیم یافتہ ووٹر حضرات سوچ سمجھ کر اگلے دو سالوں‌کے لئے نئی کابینہ کا انتخاب کریں‌گے۔

میں غلطی کی نشاندہی کے لئے احمد عرفان شفقت کا ممنون ہوں۔

 ارد گرد سے, اردو اور بلاگ نویسی, ایبٹ آباد, ایوب میڈیکل کالج, حاصل مطالعہ, سیاست, معاشرہ, ٹرینی ڈاکٹرز, پوسٹ گریجویشن
58 views

بند آدمی

“آپ کو ایک مشورہ دوں سر جی؟ قسم لے لیں کئی برسوں سے کسی کو میں نے مشورہ نہیں دیا۔"
“آپ شادی کرالیں سر جی ________آپ جیسے لوگ صرف شادی کے قابل ہوتے ہیں۔ حرام سے کوئی واسطہ نہ رکھیں۔میں بتاوں حرام سے کچھ ہو جاتا ہے یہاں۔" اس نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا۔
“آپ جیسے لوگ کچھ کرنے کرانے نہیں ہوتے نہ کوئی دھماکہ، نہ قتل، نہ خودکشی۔ آپ جیسوں کے لئے شادی بڑی اچھی رہتی ہے۔"
“مجھ جیسوں سے تمھاری کیا مراد ہے۔"
“آپ جیسے آدمی_____________بند آدمی!!”
“بند آدمی سے تمھاری کیا مراد ہے امتل؟
امتل نے ماتھے پر تیوری ڈالی کچھ دیر سوچتی رہی پھر بولی ________ ' ایک نیک آدمی ہوتا ہے سر جی اور ایک بند آدمی۔۔۔دونوں ایک سے لگتے ہیں فاصلے سے ____ پر بڑا فرق ہوتا ہے دونوں میں۔ نیک آدمی کی سرشت نیک ہوتی ہےقدرتی طور پر _______وہ چاہے نیک لوگوں میں رہے چاہے بد لوگوں کی صحبت میں، اس کی سرشت کوئی اور رنگ قبول نہیں کرتی۔ بھوک سے مر جائے پر عقاب مردار نہیں کھاتا سر جی _________حرام کی طرف مائل نہیں ہوتا۔'
“میں تمھاری بات اچھی طرح سے سمجھا نہیں امتل _________” میں نے کہا۔
“نیک آدمی کے اندر جھگڑا نہیں ہوتا ________ لیکن بند آدمی کے اندر بڑے جھگڑے ہوتے ہیں سر جی _________ اس کے اندر بدی کی کشش ہوتی ہے مگر وہ اپنے آپ کو  بدی کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے اندر نیکی موجود نہیں ہوتی ،لیکن وہ نیکی کئے جاتا ہے۔ کئی بار سوسائٹی کے ڈر سے، کبھی کسی چاہنے والے کے خوف سے _____وہ دراصل خود پیمانہ نہیں ہوتا ۔ دوسرے لوگوں کی رائے اس کا پیمانہ ہوتا ہے، بے چارہ __________ کبھی آنکھوں پر پٹی باندھتا ہے، کبھی سرپٹ بھاگتا ہے_______ کبھی کانوں پر انگلیاں، کبھی منہ پر تالا_____ توبہ توبہ سر جی، بڑے عذاب میں زندگی گزرتی ہے اس کی _____ میرا مطلب ہے سر جی نیک آدمی بدی دل سے کرنا  نہیں چاہتا، بس اس کی طبیعت ہی راغب نہیں ہوتی۔ بند آدمی سب کچھ کرنا چاہتا ہے، پر خوف سے مفلوج رہتا ہے۔ وہ بھی ایسا ہی تھا وہ شاعر بھی ________”
آج ایک بالکل نئی امتل سے متعارف ہونے کا اتفاق ہوا۔

“میں بھی اسی کی طرح ہوں_____ بائیس ہزار لے جانے والے کی طرح ______؟ ” میں نے سوال کیا۔

بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے لیا گیا اقتباس۔

 ارد گرد سے, اردو اور بلاگ نویسی, حاصل مطالعہ, متفرقات, معاشرہ
191 views

کراچی کے فسادات کے اصل مجرم

ایم کیو ایم کے ایم پی اے رضا حیدر کی ہل؛اکت کے بعد ایم کیو ایم کے رہنماوں نے حسب معمول الزام ڈرگ، لینڈ اور پتہ نہیں کون کون سی مافیا کے پردے میں اے این پی پر نہیں ڈالا، بلکہ اس مرتبہ سیدھے سبھاو اے این پی کا نام لے دیا۔

اس کے بعد اس سال کے خونریز فسادات شروع ہو گئے اور اب تک ۸۳ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس الزام کے بعد حکومتی بیانات میں یہ ذمہ داری تحریک طالبان اور لشکر جھنگوی پر ڈالی گئی، کوئی شکیل برمی کو گرفتار بھی کیا گیا، مگر تب تک ۶۰ کے قریب بے گناہ افراد لسانی فسادات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میں سب فریقوں کے لوگ مارے گئے ہیں، جس میں ایم کیو ایم بھی شامل ہے، مگر کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ موت کا یہ رقص جب ۵۳ افراد کی جان لے چکا تھا تو اس وقت تک اس میں ۴۴ افراد پشتو بولنے والے تھے، ۵ کی مادری زبان پینجابی تھی اور ان کے علاوہ صرف ۲ کی مادری زبان اردو تھی۔

میں سوچتا ہوں کیا عزرائیل علیہ السلام نے بھی لسانی تعصب سے کام لے کر صرف پشتونوں کو نبشانہ بنایا ہوگا؟؟؟

کیا واقعی؟

حوالہ

لیکن سب سے پیاری کانسپیریسی تھیوری ہمارے محبوب ترین بلاگ تبصرہ نگار عبداللہ نے، جنھیں‌اکثر لوگ ان کے معروف نام سے جانتے ہیں، پیش کی ہے۔ آپ بھی ملاحظہ کیجئے اور ان کی عقل و دانش پر تحسین کے ڈؤنگرے برسائیے۔

ایک ایسا شخص جو حکومت میں بہت اوپر تک پہنچ رکھتا ہے،اور جس کی مزہبی شناخت سے باہر رہ کر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ وہ اپنے منہ پر پرا نقاب نچنے پر بوکھلا کر دوسروں کو غیر پاکستانی کہہ کراپنے اسی پرانے ایجینڈے کی تکمیل کررہا ہے کہ جو سچ بولے اسے گدار بنادو یا دہشت گرد اس سے سب کو ہوشیار رہنا چاہیئے کیونکہ میں نے سب سے پہلے ان عوام دشمنوں کی طرف اشارہ کیا تھا ،
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف اصل بات یہ ہے کہ جعلی ڈگریوں سے بوکھلائے لوگوں نے کراچی میں یہ قتل و غارت گری ایک پلاننگ کے تحت کروائی اور ان کے حواری نفرت پر مبنی بلاگس پر بلاگس لکھ رہے ہیں تاکہ جو لوگ متحدہ کےپڑھے لکھے لوگون سے متا ثر ہوررہے ہیں وہ دوبارہ اس غلیظ پروپگینڈے کا شکار ہوجائیں

واہ واہ واہ ۔۔۔ یعنی عامر لیاقت کے دشمنوں‌نے؟ یا بابر اعوان کے مخالفین نے؟ یا عبدالرحمان ملک کے حاسدوں‌نے؟؟‌
کاش یہ بات ایم کیو ایم کے رہنماوں‌کو بر وقت پتہ چل جاتی تو بے گناہ لوگ کراچی میں‌نہ مرتے۔۔۔

 معاشرہ
131 views

میں کر بھی کیا سکتا ہوں

آج میں پریشان ہوں۔

شائد سٹریس برداشت کرنے کا پیمانہ خطرناک حدوں میں داخل ہے۔ اللہ کی ذات پر یقین تو ہے، اللہ ضرور میرے حال پر رحم کرے گا۔ مگر پھر بھی دل ہے کہ پریشان رہتا ہے۔

شائد اس کی وجہ ہسپتال کی سیاست کا نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہونا ہے۔ سیاسی داو پیچ تو اتنے آتے نہیں، بس اپنے دوستوں کے تعاون کی وجہ سے اپنی اور اپنے دوست ڈاکٹروں کی حالت اللہ کے فضل سے بہتر کرنے میں کامیاب ہوئے تھے کہ الیکشن سر پر آ گئے۔ اب پھونک پھونک کر قدم رکھنے کے بعد کچھ فیصلے کئے ہیں تو اندازہ ہو رہا ہے کہ اگر سیاست ہی کرنی ہے تو پھر اپنے نصب العین کا تعین دوبارہ کرنا ہوگا۔
ابھی تک تو مہم اچھی جا رہی ہے۔ کل ایک عدد پاور پوائنٹ پریزینٹیشن ہے، اتحادی جماعت کے ڈنر میں۔ وہ بھی تیار کرنی ہے۔

مگر میرا اپنا خیال ہے کہ پریشانی زیادہ تر آج کراچی میں ہونے والے واقعے کے بعد زیادہ ہوئی ہے۔ پچھلے سات آٹھ دنوں سے قتل و غارت گری کا بازار جس طرھ گرم ہو رہا تھا، شائد آج اس کا کلائمکس تھا۔ شائد یہ نقطہ عروج آنے والے دنوں میں ظاہر ہو ، میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ مجھے تو پریشانی اپنے عزیزوں کی ہے۔ کہیں پشتو بولنے والوں کے خلاف چلنے والی کسی مہم کا شکار نہ بن جائیں۔

اللہ نہ کرے۔

جس طرح سیدھے سبھاو اے این پی کا نام لیا گیا ہے، وہ سب پشتو بولنے والوں کے لئے مسائل کھڑے کرے گا۔ پتہ نہیں آنے والے یہ چند دن کیسے گزریں گے؟؟

میری دعا ہے اللہ مرحوم کی مغفرت کرے، ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے اور فسادیوں کے دل میں رحم پیدا کرے۔

اور میں کر بھی کیا سکتا ہوں۔

مجھے تو لوگ ویسے ہی متعصب کہتے ہیں۔

 معاشرہ
244 views

جاہل آن لائن

شاہین صہبائی جنرل مشرف کے دور میں امریکہ بدر تھے۔ وہ وہیں سے اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے اور اپنی بساط کے مطابق ڈکٹیٹر پر تنقید کرتے رہتے تھے۔ شاہین صہبائی نے  ساوتھ ایشیا ٹریبیون کے نام سے ایک انٹرنیٹ مجلے کا اجرا بھی کیا جو کہ بعد میں مبینہ طور پر مشرف حکومت کے دباو پر بند کر دی گئی۔  اور یوں یہ ویب سائٹ عام لوگوں کی رسائی سے دور ہو گئی۔

اس ساوتھ ایشیا ٹربیون کی ویب سائٹ پر میں نے پہلی مرتبہ پڑھا کی عامر لیاقت ایک جعلی ڈاکٹر ہے۔ ایم اے صدیقی کے ایک مضمون میں کراچی کے روزنامہ امت کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ کس طرح عامر لیاقت نے کراچی یونیورسٹی کے حکام پر دباو ڈال یا ڈلوا کر اپنی ڈگریوں کی بہت عجلت میں تصدیق کر وائی اور الیکش میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر مذہبی امور کے وزیر مملکت بن گئے۔ امت اخبار کے خلاف عامر لیاقت نے کسی زمانے میں عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان بھی کیا تھا ، جو کہ آج تک رو بہ عمل نہ ہو سکا۔

شعیب صفدر نے ایک ویب سائٹ کے بارے میں لکھا ہے جس پر جعلی ڈگریوں کے  بل بوتے پر پارلیمنٹ میں آنے والے سیاست دانوں کی  فہرست و تصاویر لگی ہوئی ہیں۔ وہیں تبصروں کو پڑھتے ہوئے میں اس وقت حیران ہو گیا کہ کچھ تبصرہ نگار شد و مد سے عامر لیاقت کے نام کے ساتھ ایم کیو ایم کی نسبت لگانے کی مخالفت کر رہے تھے، کیونکہ بقول انکے عامر لیاقت کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ نکال تو دیا گیا تھا، مگر الیکشن تو اس نے انھی ڈگریوں کے بل بوتے پر ایم کیو ایم کے جھنڈے تلے لڑا تھا نا!!!!

اب عامر لیاقت کے ورلڈ ریکارڈ کی کچھ تصاویر بھی دیکھ لیں۔

یہ ماسٹرز کی ڈگری کا عکس ہے جو کہ کراچی یونیورسٹی سے تصدیق کروایا گیا تھا۔

اور یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری کا عکس جو کہ صرف تین ہفتے بعد عامر لیاقت کو دی گئی۔

یعنی ۱۵ مارچ ۲۰۰۲ کو ماسٹرز کیا اور ۵ اپریل ۲۰۰۲ کو پی ایچ ڈی۔

پتہ نہیں گنیز بک والے اس ریکارڈ کو ماننے سے کیوں انکاری ہیں؟

Daily
Ummat
contacted the Karachi University authorities
to find
out how these web site Email degrees were authenticated
in a single
day, in writing, by the then Registrar of Karachi
University,
Prof. NM Aqil Burney. The Registrar received the
application from
Dr Aamir on August 24, 2002, days before filing of his
nomination
papers for the NA election and authenticated his degrees
though
this letter No PA/2002 Dated August 24, 2002

When
the newspaper contacted the Higher Education Commission
in Islamabad,
the official authority on the matter, to verify whether
the Trinity
College & University of Spain, which issued the
degrees to
Dr Aamir, was a recognized institution by Pakistan,
Director General
Mohammed Javed Khan informed the newspaper vide a letter
Dated
February 23, 2005 that the Trinity College was not
recognized.
The letter confirmed the forgery of Dr Aamir and
abetment in the
forgery by Prof Aqil to facilitate his candidacy in the
election.

ساوتھ ایشیا ٹریبیون کی مکمل رپورٹ یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

 معاشرہ