اور وہ ایسا کرنے والے ہر گز نہ تھے

سورۃ البقرۃ کی آیت ۶۷ سے ۷۱ تک بنی اسرائیل کا ایک قصہ بیان کیا گیا ہے۔
اس قصے کی ابتدا ہی اس لمحے سے کی گئی ہء جب موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ رب العزت کا حکم پہنچایا کہ اب انھیں ایک گائے ذبح کرنی ہوگی۔ بعد میں کیا ہوا ، ماشاء اللہ آپ سب لوگ جانتے ہیں۔ تمام تر تاویلوں اور بہانوں کے بعد بھی انھیں ایک گائے ذبح کرنی ہی پڑی۔ یہ اور بات کہ پہلے کسی بھی گائے سے کام چل سکتا تھا، مگر اب ایک خاص گائے ذبح کرنی پڑی۔

اس مراسلے کا عنوان سورۃالبقرۃ کی آیت ۷۱ کے آخری الفاظ کا مفہوم ہے۔

پتہ نہیں کیوں یہ واقعہ مجھے مندرجہ ذیل خبر پڑھ کر یاد آیا۔

primeminister
تفصیل

براہ مہربانی کسی اور قسم کی مماثلت تلاش کرنے اور مطلب اخذ کرنے کی کوشش نہ کیجئے۔ اس میں ہم سب کا بھلا ہے۔

حوالہ

کونسا فورم

کچھ دن ہوئے میں نے کتاب چہرہ پر خدشہ ظاہر کیا کہ شائد ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں ہڑتال ہو جائے. اللہ کے فضل و کرم سے ہڑتال کا خدشہ خدشہ ہی رہا اور مذاکرات سے مسئلہ حل ہو تا نظر آیا.

ڈاکٹروں کے بارے میں میں نے اس بلاگ کو اتنے تواتر سے تختہ مشق بنایا ہے کہ اب شائد ہی کوئی یہ مراسلہ پڑھنے کی ہمت کرے.

یہ سطور بھی لکھنے کا فیصلہ میں نے اس وقت کیا جب آج چائے پر ایک ساتھی ڈاکٹر سے تھوڑی سی بحث ہو گئی. موصوف نے ہم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ڈاکٹروں کے لئے کیا کیا ہے؟

پچھلے دنوں ایک صاحب کو جعلی میڈیکل ڈگری رکھنے کے الزام میں ملازمت سے نکال دیا گیا تھا، ان کا نام لے کر مجھ سے پوچھا گیا کہ ہم نے ان کے لئے آواز کیوں نہیں بلند کی. بہر حال چونکہ یہ ایک براہ راست حملہ تھا، مجھے بھی ترکی بہ ترکی جواب دینا پڑا. میں نےان کو یاد دلایا کہ ڈاکٹر موصوف کو خود ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی ڈگری جعلی نہیں اصلی ہے اور ایک مرتبہ اصلی ثابت ہوئی تو ہم سب اس زیادتی کے خلاف ان کے ساتھ ہیں، مگر ایک عطائی کے لئے ہم اپنا وقت ضائع نہیں کر سکتے.

میں نے پرسوں ہفتے کے دن پر ان کا ان کے ساتھیوں کا طرز عمل یاد دلایا جب ہسپتال کی انتطامیہ سے بات چیت کے لئے ہم ڈاکٹروں کو جمع کر رہے تھے تو موصوف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مسکراتے ہوئے ہسپتال کینٹین کی جانب بڑھ گئے تھے. آج انھوں نے گلہ کیا کہ ہمیں کوئی بتاتا ہی نہیں کیا فیصلے کئے جا رہے ہیں. اب کوئی ان سے کہے کہ فیصلہ کے وقت آپ چائے پی رہے ہوتے ہیں تو پھر کہنے والا مجرم ٹھہرتا ہے. موصوف کا منافقانہ رویہ گزشتہ برس کی جد و جہد میں سامنے آیا تھا. میں نے اس وقت بھی ان کو اُن کے منافقانہ طرز عمل پر بُرا بھلا کہا تھا ور آج بھی وُہی بات ان کے سامنے رکھ دی. تو موصوف اپنی مجبوریوں کا رونا رونے بیٹھ گئے، پھر انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں کس فورم سے بات کر رہا ہوں. میں کہا کہ صرف ایک ہی تو فورم ہے، ڈاکٹروں کا. ہم میں سے کوئی جماعت اسلامی ، پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ کا نہیں.

پتہ نہیں وہ وقت کب آئے گا جب ہم سب اس بات کا ادراک کریں گے کہ بات سیاسی وابستگی کی نہیں ، بلکہ عمل کی ہے. صرف اس وجہ سے جدوجہد نہ کرنا کہ کریڈٹ مخالف فریق کو جائے، اپنے آپ سے ظلم کے برابر ہے.

فاشسٹ ، لبرل فاشسٹ یا لبرل طالبان؟

فرانس میں کچھ عرصے سے ایک بحث چل رہی ہے ۔ اور یہ بحث برقعہ پر پابندی کے بارے میں ہے۔

اس بحث کا آغاز مبینہ طور پر اس وقت ہوا جب فرانس کے صدر نکولس سارکوزی نے جون ۲۰۰۹ میں برقعہ کے خلاف ایک بیان دیا. پھر انھوں نے دوبارہ نومبر 2009 میں کہاکہ ” فرانس ایسا ملک ہے جہاں برقعہ کی کوئی جگہ نہیں۔ ”

ان سے منسوب ایک اور بیان کچھ اس طرح سی این این کی ویب سائٹ پر شائع ہوا:

“The problem of the burka is not a religious problem. This is an issue of a woman’s freedom and dignity. This is not a religious symbol. It is a sign of subservience; it is a sign of lowering. I want to say solemnly, the burka is not welcome in France,” Sarkozy told lawmakers.

اس بحث میں اہم موڑ اس وقت آیا جب گزشتہ دنوں برقعہ کی حییثیت کا تعین کرنے والی کمیٹی نے سفارش کی کہ برقعے پر ہسپتالوں، سکولوں اور عوامی ٹرانسپورٹ میں پابندی لگا دی جائے. اس پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں فرانس کی شہریت منسوخ کر دی جائے.
فرانس ایک خود مختار ملک ہے، فرانسیسی حکومت کی مرضی کہ وہ اپنے ملک میں جیسے قوانین بھی نافذ کرے جائز ہے. ان کا ملک، ان کے عوام اور ان کے قوانین. یہ خیالا ت آج کل بہت مقبول ہیں. اور اخلاقی طور پر ہمیں حق بھی نہیں پہنچتا کہ ہم کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں. مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا واقعی یہ صرف فرانس کا ایک اندرونی مسئلہ ہے؟

کیا سیکولر ازم میں کسی بھی مذہب کے لئے بالکل بھی کوئی گنجائش نہیں ہے؟ اس سوال کے جواب کی تلاش میں مجھے جو کچھ ملا وہ آپ کی نذر ہے:

جارج جیکب ہالیوک جس نے سب سے پہلے یہ اصطلاح وضع کی ، کہتا ہے:

Secularism is a code of duty pertaining to this life, founded on considerations purely human, and intended mainly for those who find theology indefinite or inadequate, unreliable or unbelievable. Its essential principles are three: (1) The improvement of this life by material means. (2) That science is the available Providence of man. (3) That it is good to do good. Whether there be other good or not, the good of the present life is good, and it is good to seek that good

ایک نئی بات جو سامنے آئی وہ یہ کہ سب سے پہلے سیکولرازم کا خیال ابن رشد کی تحاریر میں ملتا ہے. ابن رشد نے سب سے پہلے فلسفہ اور مذہب کو جدا کرنے کا نظریہ پیش کیا تھا.

سیکولرازم بنیادی طور پر حکومت پر مذہب کی بالادستی کے خلاف ہے. اس میں اس بات پر زیادہ زور ہے کہ جو بھی فیصلہ کیا جائے اس میں کسی بھی بنیا دپر کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہونے پائے. چاہے وہ مذہب کی بنیاد ہو، ذات پات کی بنیاد ہو یا نسل و رنگ پر مشتمل ہو.

مگر عجیب بات یہ ہے کہ سیکولرازم کے نام پر ہی نا انصافیاں کی جا رہی ہیں.
برقعہ کے خلاف ایسے ایسے مضحکہ خیز بیانات دیئے جا رہے ہیں کہ یقین ہی نہیں آتا کہ یہ بھی کوئی دلیل ہو سکتی ہے. مثلا اس وڈیو کو دیکھئے، ایک فرانسیسی سیاستدان کہتے ہیں، کہ ” ہمارے ملک میں چہرہ ایک دوسرے کو دیکھنے اور پہچاننے اور باہمی رابطے کا ایک ذریعہ ہے. جب آپ چہرہ چھپاتے ہیں تو آپ کسی کے ساتھ بھی ایک مکمل گفتگو نہیں کر سکتے.”

جب ہم اپنے ملک میں توہین رسالت کا قانون نافذ کر کے اس پر عمل کرنا چاہتے ہین تو انسانی حقوق کی تنظیموں کو دورے پڑ جاتے ہیں. جب ہم ختم نبوت کے سلسلے میں کسی قدم کا ارادہ کرتے ہیں تو یار لوگوں کو مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق یا د آ جاتے ہیں.

میں تو اس وقت بہت حیران ہوا تھا جب ایک مغرب زدہ مسلمان نے اقلیتوں کو ایک مسلمان ملک میں تبدیلی ء مذہب کے لئے تبلیغ کی پر جوش وکالت کی تھی، مگر، خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا.

افغانستان پر حملے کی وجوہات چاہے جو کچھ بھی ہوں مگر ان میں ایک وجہ جو زور و شور سے بتائی جاتی تھی وہ انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال تھی.

عراق کے صدام کے خلاف پروپیگنڈے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال بھی شامل کی گئی تھی. حالت یہ ہے کہ انسانی حقوق ایک ایسا ہتھیار ہے جسے کسی بھی حکومت کے خلاف استعمال کر کے اپنا الو سیدھا کیا جاسکتا ہے، مگر انسانی حقوق کے انھی دعویداروں کو یہ بنیادی اصول نظر نہیں آ رہا کہ لباس کا انتخاب ایک فرد کی اپنی مرضی پر منحصر ہے، ریاست کسی فرد کو مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ ایک خاص قسم کا لباس پہنے.

آج میں انسانی حقوق کے دعویداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب جب کہ شخصی آزادی پر ایک کاری ضرب لگنے والی ہے ، یہ انسانی حقوق کے چیمپئین آواز کیوں نہیں بلند کر رہے.

طالبان تو اس لئے برے ٹھہرے کہ وہ زبردستی پردہ کراتے تھے. یہ لوگ، جو زبردستی سروں سے چادریں کھینچ رہے ہیں، کیا کہلائے جائیں گے ؟

فاشسٹ،
لبرل فاشسٹ،

صرف لبرل؟

یا

لبرل طالبان؟

کچھ نہ کچھ

کمپیوٹر سے میری دوستی کو اب دس سال ہو چکے ہیں۔ میرا تعارف کمپیوٹر سے میرے دوستوں نے کروایا تھا اور یہ دوستی کا سفر بہت سے اتار چڑھاو سے گزرا۔ ایک بات جو میں نے اس سفر میں سیکھی وہ یہ تھی کہ کمپیوٹر کے فوائد اور نقصانات کو چاہے کیسی بھی ترازو میں تولا جائے، کمپیوٹر اب ہماری روزمرہ زندگی کا جزو لا ینفک بن چکا ہے۔ اب اس کے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔

تیز رفتار انٹر نیٹ کی موجودگی نے کمپیوٹر کا لطف دوبالا کر دیا ہے۔ اب آپ اس مشین سے جو چاہیں کروا سکتے ہیں۔ اور یہ مشین بیک وقت ایک نابغہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک احمق چیز بھی ہے کہ آپ جو کچھ کہیں گے اس سے سر٫ مُو انحراف نہیں کرے گی۔

گزشتہ دنوں ایک مختصر علالت کے باعث گھر پر رہنا پڑا تو سوچا کہ کیوں نہ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لئے اس سے فائدہ لیا جائے۔ قرعہ فال آخر ایکس ایچ ٹی ایم ایل اور سی ایس ایس کے نام نکلا۔

ان دو ہفتوں میں الحمدللہ ایکس ایکس ایچ ٹی ایم ایل کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ ایک کتب میلہ سے ایک دو کتابیں کچھ عرصہ ہوا خریدی تھیں، وہ بہت کام آئیں۔ انٹر نیٹ پر یار لوگوں کے مشورے ہمہ وقت موجود تھے اور اسی طرح یہ تعلیم چل نکلی۔

اب جب کہ میری چھٹی ختم ہونے والی ہے اور روزمرہ کی بھاگ دوڑ شروع ہوجائے گی، میں سوچتا ہوں، میں خوش نصیب ہی ہوں گا اگر میں ان اسباق کے لئے کچھ وقت نکال پایا۔
میری اللہ سے دعا ہے کہ جب مجھے کچھ فراغت ہو تو اس وقت بجلی موجود ہو۔
آ مین۔

مبارکبادیں

اردو بلاگروں کی طلسماتی دنیا سے بہت عرصہ ہوا دور ہوں۔ وجوہات بہت سی ہیں، گنوانا نہیں چاہتا، کہ یہ وقت ہر بلاگر پہ کبھی نہ کبھی آیا ہے۔

بہت دنوں سے دل کر رہا تھا کہ منظر نامہ ایوارڈز کے نتاءج پر تبصرہ کروں، مگر وہی ازلی سُستی۔

بہر حال اس مراسلے کے ذریعے میں تمام جیتنے والے بلاگران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ڈفر کے بلاگ کو ۲۰۰۹ کا بہترین بلاگ ، افتخار اجمل صاحب کے بلاگ کو ۲۰۰۹ کا فعال ترین بلاگ اور جعفر کے بلاگ کو ۲۰۰۹ کا بہترین نیا بلاگ قرار پاءے جانے پر مجھے بہت خوشی ہوءی۔

مجھے امید ہے انعام یافتگان آءندہ برس اپنے اعزاز کا بحر پور دفاع کریں گے۔

بڑے ہو کر کیا بنوگے؟

انٹرویو کے دوران بچے سے پوچھا گیا کہ تم بڑے ہو کر کیا بنوگے؟ جواب ملا ڈاکٹر، دوسرا سوال کیا گیا وہ کیوں؟ جواب دیا گیا دکھی انسانیت کی خدمت کے واسظے، شاباش کی آواز کے ساتھ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا-

مگر جونہی وہ بچہ ڈاکٹر بن گیا تو وہ جذبہ وہ عزم کہاں غائب ہوگیا؟ جو اب دیہات میں ہونے والے آرڈرز کو منسوخ کروانے کے لئے ہر جائز و ناجائز ذریعہ اختیار کرکے شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میں ٹھہرنے کے چکر میں سرتوڑ کوشش کر رہا ہے تاکہ گھر کے پاس رہے اور جلد از جلد قریبی کلینک میں پہنچ سکے-

یہ ہے اقتباس روزنامہ آج پشاور کے 17 دسمبر 2009 میں چھپے ملک ناصر داؤد کے ایک شاہکار تحریر بعنوان “مانسہرہ کے رکن قومی اسمبلی فیض محمد خان کی موت کا ذمہ دار کون؟” سے- آئیے آج اس کالم کے خد و خال پر ایک نظر ڈالتے ہیں-

مضمون میں عزت مآب لکھتے ہیں کہ

فیض محمد خان کو انتہائی تشویشناک حالت میں پمز ہسپتال اسلام اباد پہنچایا گیا جہاں اُن کو آئی سی یو کی بجائے پرائیویٹ وارڈ لے جایا گیا-

اب ناصر صاحب کے معلوماتِ عامہ میں اضافہ کرنے کے لئے یہ بتاتا چلوں کہ پرائیویٹ وارڈ میں داخلہ یا تو مریض یا پھر لواحقین کی خواہش پر ہوتا ہے- عام طور پر با اثر افراد ہسپتال پہنچتے ہی ڈیوٹی پر موجود میڈیکل آفیسر سے پرائیویٹ وارڈ کا مطالبہ کرتے ہیں- جو کہ اس کے اختیار میں نہیں ہوتا- اکثر اوقات یہ معاملہ گالم گلوچ، دھونس دھمکی اور مار پیٹ تک جا پہنچتا ہے- یہاں یہ بات بھی بتاتا ضروری ہے کہ پمز ہسپتال کی انتظامیہ نے بھی یہ مؤقف اپنایا ہے کہ مریض کے لواحقین آئی سی یو کی بجائے پرائیویٹ وارڈ پرضد کرتے رہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے- اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک صاحب نے تحریر سے پہلے زحمت نہیں اٹھائی کہ کے کسی قریبی بڑے ہسپتال جا کر پرائیویٹ وارڈ میں داخلہ کا طریقِ کار دریافت کرے یا اپنے کسی دوست سے پوچھے- کرتا بھی کیوں جب گھر بیٹھے دو تین اخباری رپورٹوں اور نجی ٹی وی چینلوں کے سامنے بیٹھ کر بآسانی ایک کام بھی ہو سکتا ہے- کالم تو ویسے ہی چھپتا ہے اور لوگ بھی پڑھیں گے- پھر عوام الناس میں خاطرخواہ نیک نامی بھی ہوگی- دنیا کے ساتھ آخرت بھی سنور سکتا ہے-

مزید آگے جا کر ملک صاحب لکھتے ہیں:

سانس کی تکلیف کو رفع کرنے والے آلہ کی عدم دستیابی یا اس کی خرابی بظاہر اس کی موت کا سبب بنی-

کوئی تو پوچھے آلہ کی خرابی یا عدم دستیابی میں اس ڈاکٹر کا کیا قسور ہے جس کے بچپن کے جذبات سے لے کر بڑے ہسپتال میں تعیناتی کا آپ نے پوسٹ مارٹم کیا- زخم دے کر نمک پاشی کا بھی انتظام کیا-

ناصر صاحب کہتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں کروڑوں روپے کی آنے والی ادویات کچھ با اثر لوگوں کو مل جاتی ہیں یا پھر یونین کے نمائندے شاید اپنا حصہ وصول کر لیتے ہوں- تو جناب ایک طرف تو معاملہ زیر. بحث عام لوگوں کا نہیں ہے بلکہ چوٹی کے تین سو بیالیس ہستیوں میں سے ایک ہے- اور موت کی وجہ بھی ادویات کی عدم دستیابی نہیں بلکہ یا تو بقول آپ کے پرائیویٹ وارڈ ہے اور یا پھر تنفس کے آلے کی عدم دستیابی- اگر یہ کالم میں مرچ مصالحہ ڈالنے کی کوشش ہے تو میڈیا کی بے لگام آزادی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے جائز قرار دیتے ہیں- دوسری بات یہ کہ فنڈز اور ادویات پر صرف ہسپتال انتظامیہ کا حق ہے- دکھی انسانیت کے جذبے کو زبان پر لانے والے بچے یا اس کے نتیجے میں تخت شاہی تک رسائی کرنے والے گریڈ 17 کے ڈاکٹر کا اس جگہ داخلہ بھی ممنوع ہے جہان ان فنڈز اور ادویات کی مبئینہ بندر بانٹ ہوتی ہے- انتظامیہ میں زیادہ تر نان میڈیکل سٹاف ملوث ہوتا ہے- ایک یا دو ڈاکٹر بھی اگر ہوں تو وہ بھی نان پریکٹسنگ ہوتے ہیں- ان کی نہ رات کی ایمرجنسی دیوٹی لگتی ہے، اور نہ جلد از جلد قریبی کلینکس کا رخ کرتے ہیں- نہ ہی دیہات میں ان کے آرڈر ہوتے ہیں- یونین کے نمائندوں کی مجھے سمجھ نہیں آئی تاہم اگر اس سے مراد ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹرز ہیں تو ایک ذاتی تجربہ پیش کرتا ہوں کہ اپنے والدین کے اپریشن پر آنے والے اخراجات کے بل پاس کرنے کا مجھے وقت ہی نہ ملا اور سال گذر گیا- صبح وارڈ، پھر او پی ڈی پھر اپریشن تھیٹر، درمیان میں اگر پانچ دس منٹ ملے تو کلرک غائب- اگر شکایت کروں تو ایپکا-

کالم نگار آگے فیض محمد خان اور مسز ہما وسیم اکرم کیسز میں مماثلت کی لکیریں کھینچتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے اور ان کی ساری توجہ پرائیویٹ کلینک پر ہی رہتی ہے- نتیجتا” لوگ عطائیوں کے ہاتھوں مرتے ہیں- عجیب مرحلہء فکر ہے- کیا رکن قومی اسمبلی اور عالمی شہرت یافتہ وسیم اکرم سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی عدم موجودگی پر دل برداشتہ ہو کر عطائیوں کے پاس گئے اور موت کو گلے لگا یا؟ یا پھر عظائیوں نے ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کا فائدہ اٹھا کر ہسپتال کی سیٹوں پر قبضہ جمایا؟ یا پھر عطائیوں کے اڈے “قریبی کلینکس” سے زیادہ قریب تھے-

ہما وسیم کیس میں بائیس ڈاکٹروں کے خلاف انکوائری پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مجاہدِ معرکہءِ قلم کمان یوں تو ہر شعبہء زندگی سے نالاں ہے مگر شعبہء صحت کی انحطاط نے حد درجہ پریشان کیا ہے- اور ڈاکٹروں کو تمام مسائل کا جڑ قرار دیتے ہوئے حل یہ بتاتا ہے کہ:

1. ڈاکٹروں کا مریضوں سے رویہ بدلنے کی سنجیدہ کوششیں ہونی چاہئیں-
2. ڈاکٹروں کو اپنا رویہ تبدیل کرکے “دکھی انسانیت” کو مزید دکھ دینے کی بجائے مسیحا کا کردار ادا کرنا “ہوگا-

  • ڈاکٹر ارشاد علی

.

.

(ڈاکترز اپنے فرائض کس طرح ادا کرتے ہیں اور کن کن دباؤ کا شکار رہتے ہیں؟ مختلف آفات اور سانحات میں پاکستانی ڈاکتروں کا کیا کردار رہا ہے اور کون کون سے ممالک اس کا اعتراف کرتے ہیں؟ آزاد عدلیہ، بے لگام میڈیا، خادمِ اعلیٰ کی خادمیت اور خلق. خدا کی راج ڈاکٹروں پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں؟ ان سب کی تفصیلات کسی اور مراسلے میں پیش کی جائینگی-)Irshad_Ali

مذہب اور طب

عمر کی تیسری دہائی میں ابھی ابھی داخل ہونے والا مریض جب کلینکل سائیکالوجسٹ کے کمرے سے باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں پکڑے ایک کاغذ پر قرآن مجید کی ایک سورۃ کی تلاوت کی تلقین بھی درج تھی۔

مریض بھی مسلمان تھا اور کلینکل سائیکالوجسٹ بھی مسلمان تھی۔ لہذا اس پس منظر میں یہ بات کچھ بری نہیں لگتی کہ قرآن کی آیات سے شفاء حاصل کی جائے۔
جب سائیکاٹرسٹ کے پاس وہ مریض دوبارہ آیا تو سائیکاٹرسٹ نے اس تلقین پر اعتراض کیا۔ اور کہا کہ ڈاکٹر یا کسی پروفیشنل کو اپنی پیشہ ورانہ حدود میں رہنا چاہئے اور دوسروں کے کاموں میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔
اس معاملے کو یہیں چھوڑتے ہیں۔

========================================

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے سائیکاٹری وارڈ میں ایک پچیس سالہ ہندو نوجوان کو لایا گیا۔ یہ نوجوان کچھ عرصے سے اپنے گھر والوں سے لڑ جھگڑ رہا تھا۔ گھر والوں سے اس کے تعلقات ٹھیک نہیں رہے تھے۔ والدین پریشان ہو چکے تھے کہ اکلوتے بیٹے کا کیا کیا جائے۔ خاندان والوں نے معاشرتی بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔ اور اس سب کی وجہ یہ تھی کہ لڑکے نے اسلام قبول کر لیا تھا۔

جن سائیکاٹرسٹ صاحب کو یہ کیس سونپا گیا، ان کے لئے یہ ایک بہت کڑا امتحان تھا۔
کیا لڑکا قبول اسلام کے بعد گھر والوں کے روئیے کی وجہ سے ڈپریشن میں چلا گیا تھا ؟
کیا لڑکے نے ڈپریشن کی وجہ سے اسلام قبول کیا تھا؟
یا اس سب معاملے کی کوئی اور وجہ تھی۔ یہ سب معلوم کرنے کے بعد اس کا علاج کرنا بھی تو تھا۔ بہر حال سائیکاٹرسٹ نے اس کیس کو لیا اور
بقول ان کے ، ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ ایک امتحان تھا۔ ان کے سامنے ایک مشکل سوال یہ تھا کہ اگر مریض اسلام چھوڑنا چاہے تو ان کا کیا رد عمل ہونا چاہئے؟
بہر حال ، 8-7 ماہ کی محنت کے بعد اتنا ہوا کہ مریض ڈپریشن سے باہر نکال آیا۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک، اس کی ڈپریشن کی علامات اُس کے قبول اسلام سے بہت پہلے نمودار ہو چکی تھیں، اس ایک دن اسی ڈپریشن میں اُس نے اسلام قبول کیا مگر اس کے حالات سنورنے کی بجائے بگڑتے چلے گئے۔ جب اس کی حالت بہتر ہونا شروع ہوئی تو اُسے اپنے قبول اسلام کے اقدام کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور وہ واپس اپنے مذہب کی طرف چلا گیا۔

ان دو مثالوں کے بعد سب سے اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کے لئے مذہب کی کیا اہمیت ہونی چاہئے؟
مذہب پر بہت عرصے سے بحث ہوتی چلی آ رہی ہے۔ آج کے یہ سوال بڑے زور شور سے اٹھایا جا رہا ہے کہ مذہب نے نسل انسانی کی بقا کے لئے کیا کردار ادا کیا ہے۔ بڑی جنگوں پر اکثر مذہبی رنگ چڑحا کر انھیں عوام کے لئے قابل قبول بنایا گیا۔ اور دہریے تو بڑھ چڑھ کر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ نعوذباللہ خدا ہے ہی نہیں۔
برطانوی دہریے رچرڈ ڈاکنز نے تو اس سلسلے میں ایک کتاب لکھ بھی ڈالی ۔
کتاب کا نام ہے : THE GOD DELUSION

اس کتاب کی اب تک 15 لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
بہر حال مذہب پر بہت سے ماہرین نفسیات نے کام کیا ہے، اور انسان کی مذہب سے وابستگی کو مختلف مفروضوں کی بنیاد پر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
مذہب کی نفسیات ایک مفید خلاصہ ثابت ہو گا۔

موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے۔ کیا پہلی مثال میں کلینکل ساَئیکالوجسٹ کا طرز عمل مناسب تھا؟
اس کا جواب مشکل ہو سکتا ہے۔
ہماری تعلیم و تربیت اکثر مذہبی رنگ لئے ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مذہب کا رنگ کافی گاڑھا ہے۔ لہذا اگر صحت کی سائنس پر بھی مذہب کا رنگ چڑھ جائے تو حیرانی کی کیا بات؟ اور ویسے بھی تو ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن میں لوگوں کے لئے شفاء موجود ہے تو پھر اس سے استفادہ کیوں نہ کیا جائے؟
یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا قرآن کی آیات کی تلاوت کی ترغیب ہر ایک مریض کو کی جائے جن میں غیر مسلم یا دہریے بھی ہو سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو کیوں اور اگر نہ تو کیوں؟
اس سوال کا جواب جو لوگ ہاں میں دیں گے غالبا ان کی سب سے مضبوط دلیل یہ ہوگی کہ قرآن تو ساری انسانیت کے لئے اترا ہے صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ، تو پھر کیا حرج ہے اگر مریضوں کو قرآن کی کچھ آیات کی تلاوت کی تلقین کی جائے۔
جو لوگ اس سوال کا جواب نفی میں دیں گے وہ غالبا یہ کہیں گے کہ اعتقاد ایک بہت اہم نفسیاتی عامل ہے جو کسی بھی علاج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلا لوگوں کا اعتقاد کسی خاص رنگ یا شکل کی گولی پر بن جاتا ہے، اور اگر ڈاکٹر دوا بدل دے تو حیرت انگیز طور پر ان کا علاج کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔ ایسی کئی مثالیں دیکھی گئی ہیں۔ لہذا قرآن کی آیات کا اثر ایک حد تک ان پہ ہی ہوگا جو اس پہ اعتقاد رکھتے ہیں۔

جو لوگ ڈاکٹرز کی طرف سے مریضوں کو قرآنی آیات کی تلاوت کی ترغیب دینے کی خلاف ہیں ان کے پاس سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی سائنسی موجود نہیں ہے جس سے علم ہو سکے کہ قرآن کی مختلف آیات کا مختلف حالتون میں کیا اثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جو علم حاصل کیا ہے وہ سب دلیل پر قائم ہے۔ ہم کسی مرض کی تشخیص اور پھر اس کے علاج کے لئے جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اس کی کوئی واضح دلیل موجود ہوتی ہے کہ فلاں دوا کا فلاں مرض میں فائدہ ہے اور دوسرے مرض میں نہیں۔ تو جب ہم دنیاوی امراض میں دنیاوی علوم میں اتنی چھان پھٹک کرتے ہیں تو پھر قرآنی آیات کی تلقین تو ایک بہت اہم چیز ہونی چاہئے کیونکہ ہم مروجہ سائنسی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مریض کو دوا سے محروم کر کے اسے ایک ایسی چیز پر یقین کرنے کا کہہ رہے ہیں جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

پھر سب سے بڑی بات ، ہماری تعلیم اور اس کے بعد حاصل ہونے والی سند میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ ہم قرآنی آیات سے طریقہ علاج کے ماہر بھی ہیں۔ اگر یہ سب ہی کرنا ہے تو پھر تعویذ گنڈے کا کام شروع کردینا چاہئے ، ڈگری میں کیا رکھا ہے؟

دوسری مثال میں نے اس لئے دی کہ ایسے حالات بھی ہو سکتے ہیں جب ہمیں اپنے دین اور ایک انسان کی زندگی میں سے ایک چیز منتخب کرنی ہوگی۔ وہ سائیکاٹرسٹ صاحب کہتے ہیں کہ وہ مریض کو یہ مشورہ بھی دے سکتے تھے کہ چونکہ گھر میں حالات سازگار نہیں ہیں اور اس کشمکش میں شائد وہ کسی کو نقصان نہ پہنچا دے، اس لئے وہ تبلیغ پر نکل جائے، اس نے قبول اسلام کر کے بہت اچھا کیا ہے اور اچھائی کی راہ میں تو ایسے مرھلے آتے رہتے ہیں۔ دل چھوٹا نہ کرے ، اللہ کی راہ میں وقت لگائے ، انشاءاللہ اس کا ایمان مضبوط ہوگا۔

مگر کیا مذہب کی تلقین ڈاکٹر کے فرائض میں شامل ہے؟
انھوں نے مریض کو جاننے کو ترجیح دی اور اس کے مرض کا علاج شروع کردیا۔ مریض صحت یاب ہونے کے بعد کیا فیصلہ کرتا، انھوں نے اپنے آپ کو اس سے لاتعلق رکھا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ واپس اپنے مذہب کی طرف لوٹ گیا۔

میرا خیال ہے ہم مسلمان ڈاکٹروں کے لئے اس موضوع پر سوچنے کی بہت گنجائش موجود ہے۔.

دیوتا

دیوتا نے بہت عرصے اپنے سحر میں مبتلا کئے رکھا. مجھے یاد نہیں کب دیوتا سے میری شناسائی ہوئی اور کب یہ شناسائی آگے بڑھ کر ایک عارضے میں بدل گئی.

میں بات کر رہا ہوں اردو زبان کے سب سے طویل سلسلے دیوتا کی جو ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ میں 1977 سے لگاتار شائع ہوتا رہا اور اب جنوری 2010 کے شمارے میں اس کا آخری باب شائع ہو چکا ہے.

ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ کے مطابق دیوتا 33 سال تک لگاتار شائع ہوتی رہی اور اسے اردو کیا ، دنیا کی کسی بھی زبان میں شائع ہونے والی طویل ترین داستان کا اعزاز حاصل ہے.

ابتداء میں تو میں سمجھتا تھا کہ واقعی فرہاد علی تیمور ہی اس داستان کا راوی ہے اور بڑی دلچسپی سے اس داستان کو پڑھتا تھا. کبھی لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو شاہدرہ پُل کے آس پاس دیکھتا تھا کہ شائد کہیں فرہاد علی تیمور کسی درخت کے نیچے خیال خوانی میں مصروف نظر آجائے، مگر صرف کنکریٹ کی عمارتوں کا جنگل ہی نظر آپاتا تھا. اس خیال سے کہ لوگ مذاق نہ اڑائیں کبھی بھی اس خواہش کا اظہار نہ کیا. مگر پھر، وقت کے ساتھ ساتھ جب آس پاس کی چیزوں کو سمجھنے شعور پیدا ہوا تو پتہ چلا کہ اور بہت سے کہانیاں بھی تھیں جن کا طرز تحریر بالکل فرہاد علی تیمور کی طرح کا تھا.
پہلے تو یہ گمان ہوا کہ دراصل فرہاد علی تیمور ، محی الدین نواب کے نام سے لکھتا ہے، مگر جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے. یہ محی الدین نواب تھے جنھوں نے فرہاد علی تیمور کی داستان قلم بند کی.

دیوتا 33 برس تک شائع ہوتی رہی.میں اس کو مستقل تو نہ پڑھ سکا، بیچ میں بہت لمبے لمبے وقفے آئے، تعلیمی میدان میں مسابقت کی دوڑ کی وجہ سے دیوتا سے رابطہ منقطع رہا ، مگر بھلا ہو لائیبریریوں کا، اور میرے دوستوں کا، کہ پرانے ڈائجسٹ مل جاتے تھے اور اس داستان میں پائے جا نے والے خلا تھوڑے تھوڑے کم ہوجاتے تھے.
محی الدین نواب صاحب کا بہت زرخیز دماغ ہے، اس لمبے عرصے تک ایک داستان کو چلائے رکھنا اور ایسا چلائے رکھنا کہ ہر باب میں ایک نیا موڑ. ایک بہت کٹھن کام ہے. مجھے یاد ہے، فرہاد علی تیمور کی داستان کے شروع کے حصوں میں سپر ماسٹر اور ماسک مین دو اہم کردار تھے جو کہ اس وقت امریکہ اور سوویت یونین کی بالادستی کی نمائیندگی کرتے تھے. سوویت یونین کے زوال کے بعد ماسک مین کے کردار کو زوال آیا اور پھر خطے کے حالات کے مطابق کہانی چلنے لگی. کبھی فرہاد کو سوڈان میں بھیجا گیا، تو کبھی طالبان کے درمیان. اکثر بھارتی کالے جادو کے ماہرین خال چاٹتے نظر آتے تھے. فرہاد نے رسونتی کو مسلمان کرا کے آمنہ بنا ڈالا اور یوں کہانی آگے بڑھتی گئی.

دیوتا اور ٹیلی پیتھی نے دماغ پر ایسا اثر ڈالا تھا کہ ایک زمانے میں مَیں نے کتابیات پبلیکیشنز کی ٹیلی پیتھی پر اکثر کتابیں خرید ڈالی تھیں. شمس بینی کے چکر میں صبح اٹھنا اور فلیٹوں کے پانی کے پائپوں کے ذریعے چھت پر چڑھ کر بند آنکھوں سے سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھنا ، کہ شائد اس سے آنکھوں میں وہ طلسماتی طاقت پید اہو جائے جس سے ہم امتحان میں آنے والے سوالات ٹیچر کو سحر زدہ کر کے معلوم کر سکیں.
رات کو پڑھتے پڑھتے ایک موم بتی لگا کر شمع بینی کی مشقیں کرنا، یا پھر ایک سادہ کاغذ پر ایک سیاہ دائرہ بنا کر اسے دیر تک دیکھنا بھی انھی مشقوں میں شامل تھا.

پھر کافی عرصے تک تو یہ تجسس رہا کہ آخر فرہاد کب اپنی داستان ختم کرے گا؟ وہ دن کب آئے گا جب ہم اس داستان کے اختتامی جملے پڑھیں گے، مگر وہ دن اُس وقت نہ آنا تھا. دیوتا چلتی رہی اور اس عرصے کے دوران بہت سے سلسلے شروع ہو کر ختم ہو بھی گئے مگر فرہاد ہر بار ایک نیا جنم لے کر سامنے آ جاتا تھا. یہ بات مجھے اچھی نہ لگی کہ صرف داستان گوئی کی خاطر آواگون کے فلسفے کو بھی بعض اوقات اسلامی رنگ چڑھایا گیا، مگر جب لوگوں کی عقیدت کو دیکھتا تو سسپنس ڈائجسٹ کی انتظامیہ کو لکھنے کا ارادہ ترک کر دیتا.

اب بھی جب کہ یہ داستان ختم ہو چکی ہے، مجھے بہت سے پہلو تشنہ دکھائی دے رہے ہیں. گزشتہ چھے برس سے اس داستان کا باقاعدہ مطالعہ کرتے ہوئے مجھے کئی ماہ پہلے اندازہ ہو گیا تھا کہ محی الدین نواب صاحب اب اس داستان کو ختم کرنے کے چکر میں ہیں. بابا فرید واسطی کی کئی پیش گوئیوں کا سہارا لے کر اس داستان کو مصنوعی تنفس فراہم کیا گیا مگر، یہ سب کب تک چلتا؟

اب جب کہ آج میں اس داستان کا آخری باب پڑھ چکا ہوں، مجھے یہی محسوس ہو رہا ہے کہ اگلے ماہ پھر کسی پیش گوئی یا روحانی طاقت کا سہارا لے کر فرہاد علی تیمور میدان میں کھڑا دشمنوں کو للکار رہا ہوگا.

بول بچہ جمورا

مزید پڑھیں…

کیا کہا عشق جاودانی ہے؟

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا

تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
مل رہی ہو بڑ ے تپاک کے ساتھ

مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں

مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا
بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا
سوچتی ہو ، تو سوچتی ہو کیا
اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

کیا کہا عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا