





<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: مکمل  ۔۔ قصہ پانچویں درویش کا  ۔۔</title>
	<atom:link href="http://urdu.inspire.org.pk/?feed=rss2&#038;p=221" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://urdu.inspire.org.pk/?p=221</link>
	<description>ایک طفل مکتب کی کہانی، خود اس کی زبانی</description>
	<lastBuildDate>Sat, 04 Sep 2010 23:57:54 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0</generator>
	<item>
		<title>By: ڈفر - DuFFeR</title>
		<link>http://urdu.inspire.org.pk/?p=221&#038;cpage=1#comment-452</link>
		<dc:creator>ڈفر - DuFFeR</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2009 20:46:51 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://urdu.inspire.org.pk/?p=221#comment-452</guid>
		<description>تھیم تو فٹ ہے
تحاریر آپ کی ابھی کیو میں لگی ہوئی ہیں پڑھنے کے لئے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>تھیم تو فٹ ہے<br />
تحاریر آپ کی ابھی کیو میں لگی ہوئی ہیں پڑھنے کے لئے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: عمر احمد بنگش</title>
		<link>http://urdu.inspire.org.pk/?p=221&#038;cpage=1#comment-448</link>
		<dc:creator>عمر احمد بنگش</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2009 19:29:36 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://urdu.inspire.org.pk/?p=221#comment-448</guid>
		<description>بہت اچھے، عنیقہ ناز صاحبہ سے متفق ہوں، غالباً پچھلی پوسٹ پر تبصرہ آپ کی نظر سے گذرا ہو گا۔ 
میں سمجھ گیا ڈاکٹر صاحب، ایبٹ آباد کے ٹینکی محلے کی کہانی ہے یہ  p:</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بہت اچھے، عنیقہ ناز صاحبہ سے متفق ہوں، غالباً پچھلی پوسٹ پر تبصرہ آپ کی نظر سے گذرا ہو گا۔<br />
میں سمجھ گیا ڈاکٹر صاحب، ایبٹ آباد کے ٹینکی محلے کی کہانی ہے یہ  p:</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: خرم شہزاد خرم</title>
		<link>http://urdu.inspire.org.pk/?p=221&#038;cpage=1#comment-447</link>
		<dc:creator>خرم شہزاد خرم</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2009 22:24:09 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://urdu.inspire.org.pk/?p=221#comment-447</guid>
		<description>میں نے تو  قصیدہ بردہ شریف  تک پڑھا ہے اس سے آکے مجھے پتہ ہے کیا لکھا ہو گا۔ اس لیے نہیں پڑھا  قصیدہ بردہ شریف سے پہلے کی تحریر ایک اچھی تحریر ہے لکھنے کا انداز بہت اچھا ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میں نے تو  قصیدہ بردہ شریف  تک پڑھا ہے اس سے آکے مجھے پتہ ہے کیا لکھا ہو گا۔ اس لیے نہیں پڑھا  قصیدہ بردہ شریف سے پہلے کی تحریر ایک اچھی تحریر ہے لکھنے کا انداز بہت اچھا ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://urdu.inspire.org.pk/?p=221&#038;cpage=1#comment-446</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2009 18:10:35 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://urdu.inspire.org.pk/?p=221#comment-446</guid>
		<description>پہلے تو معذرت کے اتنی تاخیر سے یہ تحریر پڑھی لیکن عمدگی سے لکھی ہے اور نسبتا طویل ہے اس لیے خاصا وقت درکار تھا۔

اور موضوع سخن پر تو بس یہ کہنا ہے کہ۔ ۔

خاک کرنے والوں کی کیا عجیب خواہش ہے
خاک ہونے والوں کو خاک بھی نا سمجھاجائے۔

یعنی اس صورت حال میں‌انسان ایمان بچا لے یا کان۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>پہلے تو معذرت کے اتنی تاخیر سے یہ تحریر پڑھی لیکن عمدگی سے لکھی ہے اور نسبتا طویل ہے اس لیے خاصا وقت درکار تھا۔</p>
<p>اور موضوع سخن پر تو بس یہ کہنا ہے کہ۔ ۔</p>
<p>خاک کرنے والوں کی کیا عجیب خواہش ہے<br />
خاک ہونے والوں کو خاک بھی نا سمجھاجائے۔</p>
<p>یعنی اس صورت حال میں‌انسان ایمان بچا لے یا کان۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جعفر</title>
		<link>http://urdu.inspire.org.pk/?p=221&#038;cpage=1#comment-445</link>
		<dc:creator>جعفر</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2009 05:05:36 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://urdu.inspire.org.pk/?p=221#comment-445</guid>
		<description>کفر کے فتووں کا انتظار کریں۔۔۔
.-= جعفر´s last blog ..&lt;a href=&quot;http://jafar.wordpress.pk/?p=705&quot; rel=&quot;nofollow&quot;&gt;اوبامہ کے نام ”بند“ خط&lt;/a&gt; =-.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>کفر کے فتووں کا انتظار کریں۔۔۔<br />
<span class="cluv"> جعفر´s last blog ..<a href="http://jafar.wordpress.pk/?p=705" rel="nofollow">اوبامہ کے نام ”بند“ خط</a> <span class="heart_tip_box"><img class="heart_tip" alt="My ComLuv Profile" border="0" width="16" height="14" src="http://urdu.inspire.org.pk/wp-content/plugins/commentluv/images/littleheart.gif"/></span></span></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: فرحان دانش</title>
		<link>http://urdu.inspire.org.pk/?p=221&#038;cpage=1#comment-444</link>
		<dc:creator>فرحان دانش</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2009 07:34:58 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://urdu.inspire.org.pk/?p=221#comment-444</guid>
		<description>نیم مولوی خطرہ ایمان</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نیم مولوی خطرہ ایمان</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: عنیقہ ناز</title>
		<link>http://urdu.inspire.org.pk/?p=221&#038;cpage=1#comment-443</link>
		<dc:creator>عنیقہ ناز</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2009 04:41:12 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://urdu.inspire.org.pk/?p=221#comment-443</guid>
		<description>مجھے اس کہانی کا مرکزی خیال اور بیان کا طریقہ بے حد پسند آیا۔ لیکن کچھ چیزیں اسکی ایک بہت معیاری اور موڈرن کہانی بننے میں حائل ہیں۔ جیسے کرداروں کا ٹون اور انکی زبان میں پوری کہانی کے اندر تسلسل نہیں ہے۔ اور ربط ٹوٹ جاتا ہے۔کچھ الفاظ اگر بدل دیں تو شاید صورتحال بہت اچھی ہوجائے۔ ایک مثال اگر یہاں پر آپ بیگم کی جگہ زوجہ کا لفظ استعمال کر کے دیکھیں تو میراخیال ہے کہ اس سے فرق پڑیگا۔ 
مکالمات کے اندر تسلسل ڈالیں اور کچھ اور الفاظ پہ کام کریں تو یہ موجودہ زمانے کے تضادات کو بیان کرنے والی ایک بہترین کہانی بن جائے گی۔ اچھی تو یہ ہے ہی۔
:)
.-= عنیقہ ناز´s last blog ..&lt;a href=&quot;http://anqasha.blogspot.com/2009/10/blog-post_10.html&quot; rel=&quot;nofollow&quot;&gt;جوتوں کے بھوت&lt;/a&gt; =-.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>مجھے اس کہانی کا مرکزی خیال اور بیان کا طریقہ بے حد پسند آیا۔ لیکن کچھ چیزیں اسکی ایک بہت معیاری اور موڈرن کہانی بننے میں حائل ہیں۔ جیسے کرداروں کا ٹون اور انکی زبان میں پوری کہانی کے اندر تسلسل نہیں ہے۔ اور ربط ٹوٹ جاتا ہے۔کچھ الفاظ اگر بدل دیں تو شاید صورتحال بہت اچھی ہوجائے۔ ایک مثال اگر یہاں پر آپ بیگم کی جگہ زوجہ کا لفظ استعمال کر کے دیکھیں تو میراخیال ہے کہ اس سے فرق پڑیگا۔<br />
مکالمات کے اندر تسلسل ڈالیں اور کچھ اور الفاظ پہ کام کریں تو یہ موجودہ زمانے کے تضادات کو بیان کرنے والی ایک بہترین کہانی بن جائے گی۔ اچھی تو یہ ہے ہی۔<br />
 <img src='http://urdu.inspire.org.pk/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /><br />
<span class="cluv"> عنیقہ ناز´s last blog ..<a href="http://anqasha.blogspot.com/2009/10/blog-post_10.html" rel="nofollow">جوتوں کے بھوت</a> <span class="heart_tip_box"><img class="heart_tip" alt="My ComLuv Profile" border="0" width="16" height="14" src="http://urdu.inspire.org.pk/wp-content/plugins/commentluv/images/littleheart.gif"/></span></span></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ۔ اسپین</title>
		<link>http://urdu.inspire.org.pk/?p=221&#038;cpage=1#comment-442</link>
		<dc:creator>جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ۔ اسپین</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2009 03:32:11 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://urdu.inspire.org.pk/?p=221#comment-442</guid>
		<description>کچھ کم علم اور جاہل نما مولوی نما ۔۔۔ کو ۔۔۔کچھ کم علم اور جاہل مولوی نما۔۔۔ پڑھا جائے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>کچھ کم علم اور جاہل نما مولوی نما ۔۔۔ کو ۔۔۔کچھ کم علم اور جاہل مولوی نما۔۔۔ پڑھا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ۔ اسپین</title>
		<link>http://urdu.inspire.org.pk/?p=221&#038;cpage=1#comment-441</link>
		<dc:creator>جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ۔ اسپین</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2009 03:30:40 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://urdu.inspire.org.pk/?p=221#comment-441</guid>
		<description>تو گویا بات یہ ثابت ہوئی کہ کچھ کم علم اور جاہل نما  مولوی نما لوگوں نے لوگوں کا جینا اجیرن کر رکھاہے۔ بات کسی حد تک درست بھی ہے خاصکر  نہائت طاقتور لاؤڈ اسپیکرز پہ گلا پھاڑ  کر بغیر کسی الحان اور  اسلامی حکم کے ہر وقت بے وقت اہل محلہ اور بستی کو  اپنے وعظِ مبارک سے یہ ثابت کرنا کہ ان سے بڑھ کر کوئی بڑا عالم فاضل اس زمانے میں نہیں ہے۔ درست ۔ اور کس کی مجال کہ وہ انگلی اٹھانا تو کُجا نرم لفظوں میں ہی سہی ایسا نہ کرنے کی مولوی صاحب سے التجاء کرے۔ اسی وقت کفر اور الحاد کے فتوے جاری ہوجائیں گے۔ اور صاحبِ التجاء ہر ایک سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ اسے کہتے ہیں چوری اور سینہ زوری۔ یعنی باالفاظِ دیگر مذہبی بلیک میلنگ۔ 

میری ذاتی رائے میں نئی نسل کو دین سے برگشتہ کرنے میں ایسے مولویوں کا بھی بہت عمل دخل ہے، جو محض اپنے پیٹ کو پالنے کے لئیے مساجد پہ قبضہ کئیے بیٹھے ہیں۔

میری رائے میں محلے کی جامع مسجد کو چھوڑ کر باقی سب مساجد میں اذان بغیر لاؤ اسپیکر ز کے چھت یا میانر پہ چڑھ کر مؤذن بغیر لاؤڈ اسپیکرز کے اپنی اصل آواز پہ ازان دے۔ جیسے اسلام میں شروع دن سے ہوتا آیا ہے۔ البتہ شہر کی آبدی کے حساب اور جغرافیائی حدود کے حاسب سے ہر چند کلومیٹرز کے بعد ایک جامع مسجد کو اسپیکر پہ اذان دینے کی اجازت ہونی چاہئیے۔ اور واعظ اور درس کے بھی کچھ ضابطے مقرر کئیے جائیں۔ تانکہ گھروں میں بیمار پڑے لوگ اور چھوٹے بچوں وغیرہ پریشان نہ ہوں۔ کیونکہ یہاں تو یہ عالم ہوتا ہے کہ ایک ہی محلے میں کئی ایک مولوی حضرات اپنی اپنی مساجد میں اپنے آپ کو ایک دوسرے سے بڑا عالم ثابت کرنے کے لئیے گھنٹوں کے حساب سے ایک ہی وقت میں سب مولوی اہل محلہ کی جان ؑزاب کئیے رکھتے ہیں اور طاقتور اسپیکرز کی وجہ سے کان پڑی آواز سانئی نہیں دیتی۔

بہر حال یہ میری ذاتی رائے ہے۔ اور ضروری نہیں کہ دین کی رُو سے درست ہو۔ اس بارے میں حکومت کو علماء سے مشاورت اور رضا مندی سے کوئی قاعدہ قانون بنانا چاہئیے۔ یاد رہے علماء  سے پوچھنے کاکہا ہے۔ مولوی حضرات سے پوچھنے کا  نہیں کہا۔ 

منیر عباسی صاحب!
بہر حال۔ آپکی تحریر عمدہ کوشش ہے اور معاشرے کے ایک سنگین مسئلے کی نشاندھی کرتی ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>تو گویا بات یہ ثابت ہوئی کہ کچھ کم علم اور جاہل نما  مولوی نما لوگوں نے لوگوں کا جینا اجیرن کر رکھاہے۔ بات کسی حد تک درست بھی ہے خاصکر  نہائت طاقتور لاؤڈ اسپیکرز پہ گلا پھاڑ  کر بغیر کسی الحان اور  اسلامی حکم کے ہر وقت بے وقت اہل محلہ اور بستی کو  اپنے وعظِ مبارک سے یہ ثابت کرنا کہ ان سے بڑھ کر کوئی بڑا عالم فاضل اس زمانے میں نہیں ہے۔ درست ۔ اور کس کی مجال کہ وہ انگلی اٹھانا تو کُجا نرم لفظوں میں ہی سہی ایسا نہ کرنے کی مولوی صاحب سے التجاء کرے۔ اسی وقت کفر اور الحاد کے فتوے جاری ہوجائیں گے۔ اور صاحبِ التجاء ہر ایک سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ اسے کہتے ہیں چوری اور سینہ زوری۔ یعنی باالفاظِ دیگر مذہبی بلیک میلنگ۔ </p>
<p>میری ذاتی رائے میں نئی نسل کو دین سے برگشتہ کرنے میں ایسے مولویوں کا بھی بہت عمل دخل ہے، جو محض اپنے پیٹ کو پالنے کے لئیے مساجد پہ قبضہ کئیے بیٹھے ہیں۔</p>
<p>میری رائے میں محلے کی جامع مسجد کو چھوڑ کر باقی سب مساجد میں اذان بغیر لاؤ اسپیکر ز کے چھت یا میانر پہ چڑھ کر مؤذن بغیر لاؤڈ اسپیکرز کے اپنی اصل آواز پہ ازان دے۔ جیسے اسلام میں شروع دن سے ہوتا آیا ہے۔ البتہ شہر کی آبدی کے حساب اور جغرافیائی حدود کے حاسب سے ہر چند کلومیٹرز کے بعد ایک جامع مسجد کو اسپیکر پہ اذان دینے کی اجازت ہونی چاہئیے۔ اور واعظ اور درس کے بھی کچھ ضابطے مقرر کئیے جائیں۔ تانکہ گھروں میں بیمار پڑے لوگ اور چھوٹے بچوں وغیرہ پریشان نہ ہوں۔ کیونکہ یہاں تو یہ عالم ہوتا ہے کہ ایک ہی محلے میں کئی ایک مولوی حضرات اپنی اپنی مساجد میں اپنے آپ کو ایک دوسرے سے بڑا عالم ثابت کرنے کے لئیے گھنٹوں کے حساب سے ایک ہی وقت میں سب مولوی اہل محلہ کی جان ؑزاب کئیے رکھتے ہیں اور طاقتور اسپیکرز کی وجہ سے کان پڑی آواز سانئی نہیں دیتی۔</p>
<p>بہر حال یہ میری ذاتی رائے ہے۔ اور ضروری نہیں کہ دین کی رُو سے درست ہو۔ اس بارے میں حکومت کو علماء سے مشاورت اور رضا مندی سے کوئی قاعدہ قانون بنانا چاہئیے۔ یاد رہے علماء  سے پوچھنے کاکہا ہے۔ مولوی حضرات سے پوچھنے کا  نہیں کہا۔ </p>
<p>منیر عباسی صاحب!<br />
بہر حال۔ آپکی تحریر عمدہ کوشش ہے اور معاشرے کے ایک سنگین مسئلے کی نشاندھی کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

<div style="text-align: center;"><div style="position:relative; top:0; margin-right:auto;margin-left:auto; z-index:99999">
<!-- Website Analytics Code --> <script type="text/javascript" language="javascript" src="http://analytics.hosting24.com/do.php"></script> <noscript> <a href="http://www.hosting24.com/" target="_blank"><img src="http://analytics.hosting24.com/do.php" alt="web hosting" border="0"></a> </noscript> <!-- End of Website Analytics Code -->
</div></div>