150 views آپ پڑھ رہے ہیں: طفل مکتب » مجھے اُس شہر جانا ہے

مجھے اُس شہر جانا ہے

کسی شطرنج کے مہرے کی صورت زندگانی ہے
تجھے کیسے بتاؤں کس طرح رسوا کہانی ہے

کہ میں بھی بیٹیوں کا باپ ہو کر درد سہتا ہوں
ہر اِک لمحہ صحن میں خوف کا منہ تکتے رہتا ہوں
اچانک ڈاکئے کے ہاتھ کی دستک جو سنتا ہوں

تو میں بھی بیتئوں کا باپ ہوں
دل میں
کئی قصے بھت سے وسوسے مسکن بناتے ہیں

مجھے بازار کے یک نوجوان کی یاد آتی ہے
جو میرے پاس آتا ہے
میری جھکی کمر کو دیکھ کر گٹھڑی اٹھاتا ہے
کوئی مشکل گھڑی آئے وہ میرے کام آتا ہے

میرا دل پھر بھی لیکن وسوسوں میں گھر سا جاتا ہے
کہ جیسے ڈاکیہ کے ہاتھ جو پیغام ہے گویا
کہیں نامہ وہ میری بیتیوں کے نام ہے گویا
کھیں یاس نوجواں کمبخت کا یہ کام ہے گویا

مگر وہ ڈاکیہ یک دوسرا پیغام لایا ہے
وہ خط مالک کی جانب سے مکیں کے نام آیا ہے
وہ میرے در بدر کے ہونے کے احکام لایا ہے

میں اپنی بیٹیوں کو ساتھ میں لے کر
ابھی کس سمت جاؤں کس طرف چھایا اجالا ہے
میرے آقا بتا شہرِ سکوں کا کیا حوالہ ہے

مجھے اُس شہر جانا ہے وہاں یک گھر ملا چاہے
نری یک چار دیواری کوئی چادر ملا چاہے

مجھے اُس شہر جانا ہے
جو مجھ کو راس اجائے
مجھے احساس آجائے
کہ میں محفوظ
میری بیٹیاں محفوظ
سب محفوظ ہوں جس میں
مجھے اُس شہر جانا ہے.

ارشاد علی

فائنل ایئر کی ڈائری سے

 متفرقات, معاشرہ

تبصرہ

”مجھے اُس شہر جانا ہے“ پر 6 تبصرہ کیے گئے

تبصرہ کریں

(ضروری ہے)

(ضروری ہے)