106 views آپ پڑھ رہے ہیں: طفل مکتب » بڑےلوگ

بڑےلوگ

کل جب ہم ایوب میڈیکل کالج کے سیمینار ہال میں میڈیکل اخلاقیات پر دو روزہ کانفرنس کے دوسرے دن کےتیسرے سیشن کے لئے داخل ہوئے تو ہا ل بھرا بھر ا سا لگا۔  مجھے یہ بات عجیب سی لگی کیونکہ اس وقت تک کافی شرکاء تھک جاتے ہیں اور ایسی  کانفرنسوں میں اکثر شرکاء باہر گپ شپ لگاتے یا چائے پیتے نظر آتے ہیں۔

اپنی جگہ پر بیٹھا تو ایک دوست نے میری توجہ ان لوگوں کی طرف دلائی جو کہ حلیے سے نہ تو ڈاکٹر نظر آتے تھے، نہ ہی میڈیکل کے طالبعلم۔ بلکہ یہ تو عام سے لوگ تھے، جن میں ایک قدر مشترک تھی، وہ یہ کہ ہر ایک نے ہاتھ میں موٹے دنوں والی تسبیح پکڑ رکھی تھی، کچھ لوگ تسبیح کے دانوں کو گھما بھی رہے تھے، مگر اکثریت نے دائیں ہا تھ پر تسبیح کو گھما کر پہن رکھا تھا۔ غور سے دیکھا تو ہال میں ان لوگوں کی تعداد کافی تھی۔ اِس دوست نے یہ بھی بتایا کہ یہ سب لوگ ایک آدمی کے ساتھ آئے ہیں اور یہ کہ ان میں سے تقریبا ہر ایک اس شخص کے ہاتھ چوم رہا تھا۔ میرے ذہن میں یہی بات آئی  کہ کوئی پِیر صاحب ہوں گے ، مگر اس وقت حیرانی ہوئی جب علم ہوا کہ موصوف کلین شیو ہیں۔

بہر حال شام چھے  بجے نئے وقت کے مطابق جو کہ آج پرانا ہوچکا ہے ، موصوف کی تقریر شروع ہوئی ، تقریر کا موضوع غالبا  تھا وسطی ایشیا میں نئی گریٹ گیم اور اس کا پاکستانی معاشرے پراثر۔

میں جناب کے انداز بیان سے بہت متاثر ہوا اور چونکہ ان سے میرا غائبانہ  تعارف اس لئے بھی تھا کہ میں اکثر اخباروں اور مضامین میں ان کا حوالہ پڑھتا رہتا ہوں، ، پھر میرے ایک مربی استاد ان سے بہت متاثر ہیں اور مجھے ان کی باتیں سنا کر آتش شوق کو ہوا دیتے  رہتے ہیں، لہٰذا اس تقریر میں میری دلچسپی کا پیدا ہونا ایک فطرتی امر تھا۔موصوف چونکہ ایک مصروف شخصیت ہیں، لہٰذا ان کی موجودگی کو ہی باعث افتخار سمجھا گیا اور اس بات پر کسی کی توجہ نہ گئی کہ  جتنا وقت بھی وہ بولے، موضوع سے ہٹ کے بولے۔ ان کازور ڈاکٹرز کی دوسرے پیشوں پر اخلاقی برتری پر تھا اور انھوں نے ان کو مسیحا ثابت  کرنے کی کافی کوشش کی۔ مجھے حیرانی اس وقت ہوئی جب مغرب کی نماز کا وقت ہوا اور موصوف بولتے رہے۔  ہم مغرب کی نماز پڑھ کر وپس آئے تو موصوف اسی جوش و خروش  سے بول رہے تھے، اور اب وہ اپنی کسی پیش گوئی کی بات کر رہے تھےجو کہ  پاکستان کے موجودہ حالات کے بارے میں تھی اور انھوں نے اگلے تین سے چھے مہینوں کا ذکر کیا۔  اس سلسلے میں ایک حدیث مبارک کا ذکر بھی آ گیا جو کہ غزوۃ الہند کے بارے میں ہے، بہر حال، ہال میں موصوف کے بارے میں چہ مگوئیاں شروع ہو چکی تھیں۔  نماز کا وقت گزرتا چلا گیا، موصوف اپنی حکمت اور دانش کے موتی بکھیرتے رہے، اور مجھے اعتراف ہے کہ میں ان جیسا علم اور مطالعہ نہیں رکھتا،  کاش میں ایسا کر سکتا۔

رات آٹھ بجےتک آپ کی تقریر جاری رہی، آپ کے کچھ معتقدین نے اس تقریر کو فلمانے کا باقاعدہ بندوبست کیا ہوا تھا، تمام مریدین اس دوران اپنی جگہ سے نہیں اٹھے۔ ان میں سےبہت کم لوگ ایسے تھے جو مغرب کی نماز کے لئے اٹھے اور انھوں نے بھی انفرادی نماز پڑھی۔

عشاء کا وقت شروع ہوا اور جناب تشریف لے گئے۔ اس کے بعد کے  وقفے کے دوران جس سے بھی میری بات ہوئی اس کا کم و بیش یہی کہنا تھا کہ جو شخص اپنی بات نماز کے لئے نہیں چھوڑ سکتا، اس کی باقی باتوں کا کیا اعتبار؟  جو شخص نماز پر اپنی ذات کو ترجیح دے وہ کیسا مصلح؟

مجھے تو ان مریدین پر بھی بہت ترس آیا جو شائد فلاح کے چکر میں ایک عدد وظیفےکے پیچھے پڑ گئے ہیں اور انھوں نے پیر و مرشد کی رضامندی کی خاطر نماز چھوڑ دی۔یہ  شخصیت  آپ میں سے بہت سوں کی جانی پہچانی ہے، اور ان کا نام ہے پروفیسر احمد رفیق اختر ۔  ان کے بارے  میں یہاں یہاں اور یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ تفصیلی معلومات کرنی ہوں تو گوگل سے آپ کو ان کے  خلاف اور ان کے حق میں بہت سے تحاریر مل جائیں گی۔

مگر میں خوش ہوں کہ  مجھے بہت دنوں تک ان کی تحاریر نہ پڑھنے کا جو قلق تھا، اب نہیں رہے گا۔

 1

تبصرہ

”بڑےلوگ“ پر 17 تبصرہ کیے گئے

تبصرہ کریں

(ضروری ہے)

(ضروری ہے)