79 views آپ پڑھ رہے ہیں: طفل مکتب » بول بچہ جمورا

بول بچہ جمورا

عدالت عظمی کا فیصلہ آ چکا تھا اور سب لوگ اپنے قیاسات کے گھوڑے دوڑا کر مستقبل کے بارے میں کوئی اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہر ایک این آر او اور اس کے بعد کی پیدا ہونے والی صورتحال پر مضطرب دکھائی دیتا تھا، اور اپنی سیاسی وابستگی اور سمجھ بوُجھ کے مطابق بات کرتا نظر آرہا تھا۔

ہمارے وہ دوست جن کی سیاسی تربیت اسلامی انقلابی خطوط پر ہوئی ہے، اس بات پر متفق تھے کہ اب اسلامی انقلاب ہی وہ واحد حل ہے جو اس وقت تمام مسائل کو ختم کر سکتا ہے۔ ان کے پاس سب سے طاقت ور دلیل غیر مذہبی سیاسی جماعتوں کی کرپشن اور ان سے منسوب لوُٹ کھسوٹ کے کارنامے تھے۔

ان کی باتیں بہت اچھی اور دل میں گھر کر جانے والی تھیں، مجھے اپنی قوم کی بے حسی پر رونا آیا کہ صالح لوگوں کو چھوڑ کر ہم ہر بار فاسق لوگوں کو انتخابات میں منتخب کرڈالتے ہیں اور نتیجہ پہلے سے زیادہ کی لوٹ کھسوٹ کی شکل میں نظر آتا ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ پرہےکہ ہم آخر کار مذہبی ہونے کے ناتے سے اور مذہب پر جان قربان کرنے کے حوالے سے سب سے آگے ہونے کے باوجود ، الیکشن میں ان صالح لوگوں کو نظر انداز کیوں کر دیتے ہیں؟

اس وقت مجھے بہت الجھن ہو رہی ہے:۔

کیا اسلام پر عمل کرنے کے لئے اسلامی حکومت کا ہونا ضروری ہے؟

اگر مندرجہ بالا سوال کا جواب نفی میں ہے اور ہم پکے ، با عمل مسلمان ہیں تو پھر مذہب کے نام پر سیاسی جماعتوں کا وجود کس لئے ہے؟

اگر مندرجہ بالا سوال کا جواب نفی میں ہے اور ہم پکے ، با عمل مسلمان نہیں ہیں تو پھر مذہب کے نام پر سیاسی جماعتیں کیا کرتی رہی ہیں؟

اگر ہم نے ان مذہبی سیاسی جماعتوں کا وجود اس لئے قائم رکھا ہوا ہے کہ ایک اچھے اسلامی نظام کی تشکیل کے لئے ان کی موجودگی ضروری ہے تو پھر ان میں سے کس کو ووٹ دیں؟

کونسا اسلام؟

اور بالفرض ان مذہبی سیاسی جماعتو ں کی منزل ایک ہی ہے اور ان کے اختلافات نظر انداز کئے جا سکتے ہیں تو پھر ان کو موقع کیوں نہیں دیتے ہم لوگ؟

 متفرقات

تبصرہ

”بول بچہ جمورا“ پر 7 تبصرہ کیے گئے

تبصرہ کریں

(ضروری ہے)

(ضروری ہے)