93 views آپ پڑھ رہے ہیں: طفل مکتب » مذہب اور طب

مذہب اور طب

عمر کی تیسری دہائی میں ابھی ابھی داخل ہونے والا مریض جب کلینکل سائیکالوجسٹ کے کمرے سے باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں پکڑے ایک کاغذ پر قرآن مجید کی ایک سورۃ کی تلاوت کی تلقین بھی درج تھی۔

مریض بھی مسلمان تھا اور کلینکل سائیکالوجسٹ بھی مسلمان تھی۔ لہذا اس پس منظر میں یہ بات کچھ بری نہیں لگتی کہ قرآن کی آیات سے شفاء حاصل کی جائے۔
جب سائیکاٹرسٹ کے پاس وہ مریض دوبارہ آیا تو سائیکاٹرسٹ نے اس تلقین پر اعتراض کیا۔ اور کہا کہ ڈاکٹر یا کسی پروفیشنل کو اپنی پیشہ ورانہ حدود میں رہنا چاہئے اور دوسروں کے کاموں میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔
اس معاملے کو یہیں چھوڑتے ہیں۔

========================================

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے سائیکاٹری وارڈ میں ایک پچیس سالہ ہندو نوجوان کو لایا گیا۔ یہ نوجوان کچھ عرصے سے اپنے گھر والوں سے لڑ جھگڑ رہا تھا۔ گھر والوں سے اس کے تعلقات ٹھیک نہیں رہے تھے۔ والدین پریشان ہو چکے تھے کہ اکلوتے بیٹے کا کیا کیا جائے۔ خاندان والوں نے معاشرتی بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔ اور اس سب کی وجہ یہ تھی کہ لڑکے نے اسلام قبول کر لیا تھا۔

جن سائیکاٹرسٹ صاحب کو یہ کیس سونپا گیا، ان کے لئے یہ ایک بہت کڑا امتحان تھا۔
کیا لڑکا قبول اسلام کے بعد گھر والوں کے روئیے کی وجہ سے ڈپریشن میں چلا گیا تھا ؟
کیا لڑکے نے ڈپریشن کی وجہ سے اسلام قبول کیا تھا؟
یا اس سب معاملے کی کوئی اور وجہ تھی۔ یہ سب معلوم کرنے کے بعد اس کا علاج کرنا بھی تو تھا۔ بہر حال سائیکاٹرسٹ نے اس کیس کو لیا اور
بقول ان کے ، ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ ایک امتحان تھا۔ ان کے سامنے ایک مشکل سوال یہ تھا کہ اگر مریض اسلام چھوڑنا چاہے تو ان کا کیا رد عمل ہونا چاہئے؟
بہر حال ، 8-7 ماہ کی محنت کے بعد اتنا ہوا کہ مریض ڈپریشن سے باہر نکال آیا۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک، اس کی ڈپریشن کی علامات اُس کے قبول اسلام سے بہت پہلے نمودار ہو چکی تھیں، اس ایک دن اسی ڈپریشن میں اُس نے اسلام قبول کیا مگر اس کے حالات سنورنے کی بجائے بگڑتے چلے گئے۔ جب اس کی حالت بہتر ہونا شروع ہوئی تو اُسے اپنے قبول اسلام کے اقدام کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور وہ واپس اپنے مذہب کی طرف چلا گیا۔

ان دو مثالوں کے بعد سب سے اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کے لئے مذہب کی کیا اہمیت ہونی چاہئے؟
مذہب پر بہت عرصے سے بحث ہوتی چلی آ رہی ہے۔ آج کے یہ سوال بڑے زور شور سے اٹھایا جا رہا ہے کہ مذہب نے نسل انسانی کی بقا کے لئے کیا کردار ادا کیا ہے۔ بڑی جنگوں پر اکثر مذہبی رنگ چڑحا کر انھیں عوام کے لئے قابل قبول بنایا گیا۔ اور دہریے تو بڑھ چڑھ کر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ نعوذباللہ خدا ہے ہی نہیں۔
برطانوی دہریے رچرڈ ڈاکنز نے تو اس سلسلے میں ایک کتاب لکھ بھی ڈالی ۔
کتاب کا نام ہے : THE GOD DELUSION

اس کتاب کی اب تک 15 لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
بہر حال مذہب پر بہت سے ماہرین نفسیات نے کام کیا ہے، اور انسان کی مذہب سے وابستگی کو مختلف مفروضوں کی بنیاد پر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
مذہب کی نفسیات ایک مفید خلاصہ ثابت ہو گا۔

موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے۔ کیا پہلی مثال میں کلینکل ساَئیکالوجسٹ کا طرز عمل مناسب تھا؟
اس کا جواب مشکل ہو سکتا ہے۔
ہماری تعلیم و تربیت اکثر مذہبی رنگ لئے ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مذہب کا رنگ کافی گاڑھا ہے۔ لہذا اگر صحت کی سائنس پر بھی مذہب کا رنگ چڑھ جائے تو حیرانی کی کیا بات؟ اور ویسے بھی تو ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن میں لوگوں کے لئے شفاء موجود ہے تو پھر اس سے استفادہ کیوں نہ کیا جائے؟
یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا قرآن کی آیات کی تلاوت کی ترغیب ہر ایک مریض کو کی جائے جن میں غیر مسلم یا دہریے بھی ہو سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو کیوں اور اگر نہ تو کیوں؟
اس سوال کا جواب جو لوگ ہاں میں دیں گے غالبا ان کی سب سے مضبوط دلیل یہ ہوگی کہ قرآن تو ساری انسانیت کے لئے اترا ہے صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ، تو پھر کیا حرج ہے اگر مریضوں کو قرآن کی کچھ آیات کی تلاوت کی تلقین کی جائے۔
جو لوگ اس سوال کا جواب نفی میں دیں گے وہ غالبا یہ کہیں گے کہ اعتقاد ایک بہت اہم نفسیاتی عامل ہے جو کسی بھی علاج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلا لوگوں کا اعتقاد کسی خاص رنگ یا شکل کی گولی پر بن جاتا ہے، اور اگر ڈاکٹر دوا بدل دے تو حیرت انگیز طور پر ان کا علاج کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔ ایسی کئی مثالیں دیکھی گئی ہیں۔ لہذا قرآن کی آیات کا اثر ایک حد تک ان پہ ہی ہوگا جو اس پہ اعتقاد رکھتے ہیں۔

جو لوگ ڈاکٹرز کی طرف سے مریضوں کو قرآنی آیات کی تلاوت کی ترغیب دینے کی خلاف ہیں ان کے پاس سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی سائنسی موجود نہیں ہے جس سے علم ہو سکے کہ قرآن کی مختلف آیات کا مختلف حالتون میں کیا اثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جو علم حاصل کیا ہے وہ سب دلیل پر قائم ہے۔ ہم کسی مرض کی تشخیص اور پھر اس کے علاج کے لئے جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اس کی کوئی واضح دلیل موجود ہوتی ہے کہ فلاں دوا کا فلاں مرض میں فائدہ ہے اور دوسرے مرض میں نہیں۔ تو جب ہم دنیاوی امراض میں دنیاوی علوم میں اتنی چھان پھٹک کرتے ہیں تو پھر قرآنی آیات کی تلقین تو ایک بہت اہم چیز ہونی چاہئے کیونکہ ہم مروجہ سائنسی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مریض کو دوا سے محروم کر کے اسے ایک ایسی چیز پر یقین کرنے کا کہہ رہے ہیں جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

پھر سب سے بڑی بات ، ہماری تعلیم اور اس کے بعد حاصل ہونے والی سند میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ ہم قرآنی آیات سے طریقہ علاج کے ماہر بھی ہیں۔ اگر یہ سب ہی کرنا ہے تو پھر تعویذ گنڈے کا کام شروع کردینا چاہئے ، ڈگری میں کیا رکھا ہے؟

دوسری مثال میں نے اس لئے دی کہ ایسے حالات بھی ہو سکتے ہیں جب ہمیں اپنے دین اور ایک انسان کی زندگی میں سے ایک چیز منتخب کرنی ہوگی۔ وہ سائیکاٹرسٹ صاحب کہتے ہیں کہ وہ مریض کو یہ مشورہ بھی دے سکتے تھے کہ چونکہ گھر میں حالات سازگار نہیں ہیں اور اس کشمکش میں شائد وہ کسی کو نقصان نہ پہنچا دے، اس لئے وہ تبلیغ پر نکل جائے، اس نے قبول اسلام کر کے بہت اچھا کیا ہے اور اچھائی کی راہ میں تو ایسے مرھلے آتے رہتے ہیں۔ دل چھوٹا نہ کرے ، اللہ کی راہ میں وقت لگائے ، انشاءاللہ اس کا ایمان مضبوط ہوگا۔

مگر کیا مذہب کی تلقین ڈاکٹر کے فرائض میں شامل ہے؟
انھوں نے مریض کو جاننے کو ترجیح دی اور اس کے مرض کا علاج شروع کردیا۔ مریض صحت یاب ہونے کے بعد کیا فیصلہ کرتا، انھوں نے اپنے آپ کو اس سے لاتعلق رکھا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ واپس اپنے مذہب کی طرف لوٹ گیا۔

میرا خیال ہے ہم مسلمان ڈاکٹروں کے لئے اس موضوع پر سوچنے کی بہت گنجائش موجود ہے۔.

 متفرقات

تبصرہ

”مذہب اور طب“ پر 9 تبصرہ کیے گئے

تبصرہ کریں

(ضروری ہے)

(ضروری ہے)