152 views آپ پڑھ رہے ہیں: طفل مکتب » خیبر پختونخواہ، ہزارہ یا پھر کچھ نہیں۔

خیبر پختونخواہ، ہزارہ یا پھر کچھ نہیں۔

آئین میں اٹھارویں ترمیم پر اتفاق رائے کے بعد جہاں بہت سے حلقوں میں شادیانے بج رہے ہیں وہاں بہت سے اندیشے بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

میں پاکستان کے آئین پر عبور نہیں رکھتا، اور نہ ہی ان ترامیم کی باریکیوں سے آگاہ ہوں۔ مجھے علم نہیں ملک و قوم کا وسیع تر مفاد اس قسم کی ترامیم سے کیسے وابستہ رہ سکتا ہے اور میں نہیں جانتا ، صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا یا پختونستان رکھنے سے ہمارے مسائل حل ہونگے بھی یا نہیں، مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ اب متحدہ پاکستان کے بچے کھچے دن ہیں۔

میرے خیال میں اٹھارویں ترمیم کو صوبے کے نام سے نتھی کرنے کی بجائے ، اس معاملے کو بعد کے لئے بھی چھوڑا جا سکتا تھا۔ مگر شائد سیاسی معاملات اتنا انتظار نہیں کر سکتے تھے۔ میں ہزارہ سے تعلق رکھنے والا ایسا پختون ہوں جس کا ڈومیسائل ہزارہ کا ہے، اور وہ ہزارہ میں بسنے والے دیگر اکثر باشندوں کی طرح دو زبانیں بول سکتا ہے۔ زبان کا مسئلہ ہمارے لئے کبھی اتنا اہم نہیں رہا۔ بلکہ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے اس بات کی گواہی دیں گے کہ اکثر ایسا ہوا کہ سوال کنندہ نے ہندکو میں کوئی سوال پوچھا اور جواب پشتو میں ملا۔ اور دونوں خوش۔

اب شائد وہ دن نہیں رہے۔ پرسوں سے آج تک جو کچھ میں نے دیکھا، اس کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ امن و آشتی کی مثال ہمارا ضلع اب شائد اتنا پرسکوں نہ رہے۔

صوبہ سرحد کے لئے نام کا مطالبہ بہت پرانا ہے۔ باچا خان تو شائد پاکستانی سرزمین سے اتنا نفرت کرتے تھے کہ وہ جا کے جلال آباد میں دفن ہوئے۔ میرے خیال میں اے این پی کا خیال تھا کہ نام تو شائد نہ بدلے، کیوں نہ اسی بہانے سیاست کی جائے۔ جملہ معترضہ کے طور پر عرض کرتا چلوں کہ ہر ایک سیاسی جماعت نے ایسے ایسے دل نشیں وعدے تراش رکھے ہیں کہ اول تو ان کا پورا ہونا ممکن نہیں اور ہو بھی جائے تو کام نہ کرنے کے بہانے بہت ہیں۔

اکثر لسانی جماعتیں احساس محرومی جگا کر سیاست کرتی رہی ہیں۔ اے این پی ہے تو پختون اور پختونستان ، اور تربیلا ڈیم کی رائلٹی کے قصوں کو لے کر بیٹھی رہی۔ ایم کیو ایم ہے تو اسے اپنے قیام کے بعد تقریبا تمام عرصہ اردو بولنے والوں کے احساس محرومی کا غم کھائے جاتا رہا۔ اور اسی بل بوتے پر اس نے لاشوں کی سیاست کی۔ میرے کئی رشتہ دار اسی پٹھان-مہاجر کشمکش کا شکار ہو کر اب اپنی قبرو٘ں میں پڑے ہیں۔

بلوچ قوم پرست ہوں یا سندھی قوم پرست، سب اپنی قوم کا احساس محرومی نشان زد کر کے دوسرون کے استحصال کو جائز قرار دیتے ہیں۔

اس سب کا حاصل کیا ہوا بجز بے گناہوں کی موت کے؟

اور اب یہ نیا ڈرامہ خیبر پختون خوا کے نام سے۔ مجھے یاد ہے جب سرحد اسمبلی میں پختونخوا کی قرارداد منظور ہوئی تھی، تو اے این پی نے ایبٹ آباد کے جلال بابا آڈیٹوریم میں ایک تقریب منعقد کی۔ اس تقریب میں بلور صاحب آپے سے اتنے باہر ہوئے کہ وہ یہ فراموش کر گئے کہ وہ کہاں کھڑے کیا بکواس کر رہے ہیں۔ اس پر کافی سخت عوامی رد عمل ہوا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ اس بار بھی کہیں یہ بے وقوف لوگ کوئی ایسی بات نہ کر جائیں۔

مگر بے وقوف اگر بے وقوفی نہ کرے تو کیا کرے؟ یا تو اے این پی کے رہنماوں کو ضلع ہزارہ کے عوامی رد عمل کا اندازہ نہیں تھا، یا پھر وہ اس کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے تھے یا پھر یہ رہنما اتنے سخت متعصب پختون ہیں، کہ انھوں نے اعلان کر دیا کہ پورے صوبہ میں ایف ایس سی تک پشتو ایک لازمی مضمون ہو گا۔ اور پانچوین جماعت تک تمام مضامین پشتو میں ہوں گے۔

ظاہر ہے اس اعلان نے لوگوں کی باہمی کدورتیں اور بھی بڑھانی تھیں۔ اس پر ایبٹ آباد ، مانسہرہ اور ہری پور کے علاقوں میں زدید رد عمل ہوا۔ پرسوں مجھے بتایا گیا کہ نوشہرہ میں بھی خیبر پختونخوا کے خلاف ایک جلوس نکلا اور بہت سے لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ خیبر پختون خوا صرف چارسدہ اور مردان کے اضلاع سے تعلق رکھنے والوں کی ضد پورے صوبہ پر مسلط کرنے کے مترادف ہے۔ اس بات سے تو میں متفق ہوں۔

پرسوں ایبٹ آباد کی تاریخ کی سب سے متحد اور کامیاب پہیہ جام ہڑتال ہوئی۔ ہمارے ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی تو مجھے نظر نہیں آئے ، البتہ لوگوں کے جارحانہ مزاج سے اندازہ ہو گیا کہ اس صورت حال کو ایک انقلابی قدم ہی بگڑنے سے بچا سکتا ہے، اور یہ انقلابی قدم ہمارے موجودہ بونے، سیاستدانوں سے نہیں اٹھا یا جا سکتا جن کی اکثریت صرف پیسے کمانے کے لئے ایوان میں بیٹھی ہے۔

پرسوں، کامسیٹس یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پشتو بولنے والے طلبا سے کسی نے بد تمیزی کی اور انھوں نے بھی اسی سختی سے جواب دیا۔ بات آج اور بگڑی اور آج ان کے ہاسٹل کے آس پاس کافی ہنگامہ رہا عمارتوں کے شیشے توڑے گئے، آگ لگانے کی کوشش کی گئی تو پولیس بلوائی گئی۔ آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے اور ہوائی فائرنگ ہوئی۔

میں نے اپنی زندگی میں ایبٹ آباد میں ایسی ہڑتال نہیں دیکھی جو ان تین دنوں مین دو مرتبہ ہوئی۔ ایبٹ آباد جیسے پر امن شہر میں اگر ایسی ہڑتال ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حالات کافی سنگین ہیں۔

اگر اب بھی سیاستدانوں نے صورتحال کو قابو میں لانے کو شش نہ کی تو مجھے ڈر ہے کہ اب لسانی فسادات شروع ہو جائیں گے۔ ہزارہ یونیورسٹی کے قیام کے بعد وہاں اکثر ایسے فسادات ہوئے ہیں جن میں پختون اور غیر پختون کی آواز لگی۔ اللہ نہ کرے ویسے فسادات اب شہروں میں ہونے لگیں۔

پختون خوا کے حامی اگر اسی عاقبت نا اندیشی کا مظاہرہ کر تے رہے تو، مجھے ڈر ہے، کہ کل کو کہیں انھیں پاکستان میں گزارے گئے اپنے اچھے دنوں کو یاد کر کے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر افسوس نہ کرنا پڑے۔

مگر مجھے ان رہنماوں سے اتنی عقل کی بھی توقع نہیں۔ اگر یہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے والے ہوتے تو آج یہ سب کچھ نہ دیکھنا پڑتا۔

 ارد گرد سے, اردو اور بلاگ نویسی, ایبٹ آباد, تازہ ترین, حاصل مطالعہ, سیاست, صوبہ سرحد, معاشرہ

تبصرہ

”خیبر پختونخواہ، ہزارہ یا پھر کچھ نہیں۔“ پر 14 تبصرہ کیے گئے

تبصرہ کریں

(ضروری ہے)

(ضروری ہے)