461 views آپ پڑھ رہے ہیں: طفل مکتب » کیا صوفی اسلام بنیاد پرست اسلام نہیں ہے؟

کیا صوفی اسلام بنیاد پرست اسلام نہیں ہے؟

خواجہ معین الدین اجمیری ، بابا فرید گنج شکر، شیخ علی ہجویری، بہاءالدین زکریا رحمۃاللہ علیھم اجمعین ان چند بزرگان دین کے نام ہیں جن کی محنت اور کاوش نے اس خطے کے بہت سے لوگوں کو ہدایت کی روشنی کی طرف آنے میں رہنمائی کی۔ ان سب بزرگان کی خدمات کا انکار نا ممکن ہے۔ یہ بزرگ معرفت اور دین پر عمل میں ہم سے جتنے آگے تھے ہم تو اس کا کچھ بھی نہیں ہیں۔

اس سب کے باوجود ، صوفیاء کے نام پر اب جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ اتنا اچھا نہیں ہے۔ بابا بلھے شاہ، شاہ حسین اور دوسرے صوفیا کا کچھ ایسا کلام صوفی اسلام کے نام پر استعمال کر کے لوگوں کو دین کی بنیادی باتوں سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا حقیقی مطلب کچھ اور ہوتا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے ابتدائی الفاظ کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ " بے شک اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے" ۔ بلھے شاہ نے جو کچھ شائد جذب و مستی کی حالت میں کہا ہو، اس کو یون کھلے عام کہتے رہنے سے بہت سے مسائل پیدا ہوں گے۔

مثلا مندرجہ ذیل وڈیو میں جس میں اریب اظہر فنکار ہیں اور یہ کوک سٹوڈیو کی تازہ ترین پیش کش ہے، مذکورہ فنکار نے آخر میں بابا بلھے شاہ کے کلام سے جن جملوں کا انتخاب کیا ہے وہ آپ وڈیو کے آغاز کے بعد سے 4:40 منٹ کے بعد سے آخر تک سن سکتے ہیں۔ یہ جملے شائد پہلی مرتبہ سننے والے ، یا ناواقف کو یہ تاثر دیں‌کہ دین تو اصل میں‌کچھ اور ہے۔ اگر کچھ اور نہ ہوتا تو یوں‌سر عام اس کا اظہار نہ کیا جاتا۔

بے شک دین صرف کتابیں پڑھنے کا نام نہیں ہے۔ دین اس علم پر عمل کا نام بھی ہے۔ بے شک ہر مسلمان کو اپنے نفس کے خلاف جہاد کے ساتھ ساتھ اُس قتال کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے جس کا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں دیا ہے مگر یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ مکے مدینے جا کر آنے کے بعد واپس وہی غلط کام کرنے سے جانے کا فائدہ نہیں، مگر اس کا یہ مچلب بھی نہیں کہ عمل نہ کرسکنے کی سُستی کی بنا پر مکے مدینے جانے کو ہی کم اہمیت کا حامل قرار دے دیا جائے۔ مجھے یقین ہے مذکورہ بالا بزرگان دین کی سمجھ اور اس پر عمل میں ہم سے بہت افضل درجے پر تھے، مگر جس انداز میں ، جو لوگ ان کا کلام فخریہ انداز میں گاتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ بذات خود قابل اعتراض ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ صوفی اسلام کا احیا (احیا؟؟؟) اور اس سے ملتے پروگرام اور کوششیں صرف لوگوں کو یہ باور کرانے کی ناکام کوششیں ہیں کہ آپ دین کے بنیادی ارکان پر عمل نہ کئے بغیر اور ان ارکان کا مذاق اڑا کر بھی مسلمان رہ سکتے ہیں۔

میری بڑی خواہش تھی کہ میں اس سلسلے میں اور تحقیق کروں مگر جاوید اقبال صاحب نے مجھے اب تک کے لئے اس سے بچا لیا ۔

انھوں نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں اس سے ملتے جلتے موضوع پر مولانا طاہر القادری کا مؤقف پیش کیا ہے۔۔ جو کہ سُننے کے لائق ہے۔ یہ مؤقف صوفی اسلام کے بارے میں پیش کردہ مؤقف سے بالکل مختلف ہے۔
 پہلی وڈیو پیش خدمت ہے۔


گو کہ بہت سی باتوں میں میں مولانا سے اختلاف کرنے کی جسارت کروں گا مگر میں اس بات میں ان سے متفق ہوں کہ عمل کے بغیر ہم کیسے بخشش کی توقع کر سکتے ہیں۔ اور عمل بھی کیسا؟ بابا بلھے شاہ کے کلام پہ سر دھنتے ہوئے، گندے کپڑے، بکھرے بال اور چرس یا بھنگ کے کش لگاتے ہوئے ہم کیسے اللہ سے معافی کی توقع کر سکتے ہیں؟

اب ذرا سیاسی بات ہو جائے۔ انھی اولیاء کے اخلاف جو کہ اب ان کے مزارات کی سجادہ نشینی کر کے مزے اڑا رہے ہیں۔ ان کے اعمال کیا ہیں۔ ذرا سی جھلک خالد مسعود خان کے اس کالم میں دیکھ لیجئے گا۔

اس سلسلے کی پہلی تحریر اس ربط پڑھی جا سکتی ہے۔
کیا تصوف شریعت کے خلاف ہے؟
میں نے جہاں تک مطالعہ کیا ہے، ان بزرگان دین نے کبھی بھی تصوف کے نام پر ان حرکات کی اجازت نہیں دی جو آج ان کے مزارات پر یا پھر ان کے نام پر معاشرے میں ہو رہی ہیں۔ یہ اولیا اتنے ہی دین پر عمل کرنے والے تھے جتنا کہ ان کو ہونا چاہئے تھا۔ انھوں نے نمازیں پڑھیں، داڑھیاں رکھیں، مجاہدے کئے تکلیفیں برداشت کیں ، گوشہ نشینی بھی اختیار کی، مدارس میں علم حاصل کیا اور اس سب محنت کے بعد جو کہ یقینا اللہ کی رضا کے لئے تھی، اللہ نے ان کا نام اور ان کا کام ہمارے لئے محفوظ کر دیا۔

آج کل کا صوفی اسلام تو دراصل ان ذمہ داریوں سے فرار کی ایک کوشش ہے۔ جان لیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ والا ہرگز نہیں ہے جس کی ترویج میں فخرمحسوس کیا جا رہا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر پروگریسو مسلمان کون ہوگا جنھوں نے اُس جاہل معاشرے کو خواتین کو ان کے حقوق  دینے اور جانوروں پر رحم کی ہدایت کی۔ جہاں ان سب چیزوں‌کا تصور تک نہ تھا۔
مجھے ایک صاحبہ کی وہ بات بہت بہت بری لگی جس میں انھوں نے ایک شرابی مسلمان کوپروگریسو مسلمان قرار دیا تھا۔ میں ان پر ذاتی حملہ قطعا نہیں کر رہا، مگر آج کل جو راہ چلی ہے کہ شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جائے تو اس سیاق و سباق میں وہ بات تو بہت معمولی سمجھی جانی چاہئے۔

 اردو اور بلاگ نویسی

تبصرہ

”کیا صوفی اسلام بنیاد پرست اسلام نہیں ہے؟“ پر 21 تبصرہ کیے گئے

ٹریک بیکس



تبصرہ کریں

(ضروری ہے)

(ضروری ہے)