جاہل آن لائن
اس ساوتھ ایشیا ٹربیون کی ویب سائٹ پر میں نے پہلی مرتبہ پڑھا کی عامر لیاقت ایک جعلی ڈاکٹر ہے۔ ایم اے صدیقی کے ایک مضمون میں کراچی کے روزنامہ امت کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ کس طرح عامر لیاقت نے کراچی یونیورسٹی کے حکام پر دباو ڈال یا ڈلوا کر اپنی ڈگریوں کی بہت عجلت میں تصدیق کر وائی اور الیکش میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر مذہبی امور کے وزیر مملکت بن گئے۔ امت اخبار کے خلاف عامر لیاقت نے کسی زمانے میں عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان بھی کیا تھا ، جو کہ آج تک رو بہ عمل نہ ہو سکا۔
شعیب صفدر نے ایک ویب سائٹ کے بارے میں لکھا ہے جس پر جعلی ڈگریوں کے بل بوتے پر پارلیمنٹ میں آنے والے سیاست دانوں کی فہرست و تصاویر لگی ہوئی ہیں۔ وہیں تبصروں کو پڑھتے ہوئے میں اس وقت حیران ہو گیا کہ کچھ تبصرہ نگار شد و مد سے عامر لیاقت کے نام کے ساتھ ایم کیو ایم کی نسبت لگانے کی مخالفت کر رہے تھے، کیونکہ بقول انکے عامر لیاقت کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ نکال تو دیا گیا تھا، مگر الیکشن تو اس نے انھی ڈگریوں کے بل بوتے پر ایم کیو ایم کے جھنڈے تلے لڑا تھا نا!!!!
اب عامر لیاقت کے ورلڈ ریکارڈ کی کچھ تصاویر بھی دیکھ لیں۔
یہ ماسٹرز کی ڈگری کا عکس ہے جو کہ کراچی یونیورسٹی سے تصدیق کروایا گیا تھا۔

اور یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری کا عکس جو کہ صرف تین ہفتے بعد عامر لیاقت کو دی گئی۔
یعنی ۱۵ مارچ ۲۰۰۲ کو ماسٹرز کیا اور ۵ اپریل ۲۰۰۲ کو پی ایچ ڈی۔
پتہ نہیں گنیز بک والے اس ریکارڈ کو ماننے سے کیوں انکاری ہیں؟
Daily
Ummat contacted the Karachi University authorities
to find
out how these web site Email degrees were authenticated
in a single
day, in writing, by the then Registrar of Karachi
University,
Prof. NM Aqil Burney. The Registrar received the
application from
Dr Aamir on August 24, 2002, days before filing of his
nomination
papers for the NA election and authenticated his degrees
though
this letter No PA/2002 Dated August 24, 2002

When
the newspaper contacted the Higher Education Commission
in Islamabad,
the official authority on the matter, to verify whether
the Trinity
College & University of Spain, which issued the
degrees to
Dr Aamir, was a recognized institution by Pakistan,
Director General
Mohammed Javed Khan informed the newspaper vide a letter
Dated
February 23, 2005 that the Trinity College was not
recognized.
The letter confirmed the forgery of Dr Aamir and
abetment in the
forgery by Prof Aqil to facilitate his candidacy in the
election.

ساوتھ ایشیا ٹریبیون کی مکمل رپورٹ یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔
اردو بلاگستان میں صحت مند رجحانات کی پرورش
اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو کمپیوٹر کی دنیا میں ابھی بہت پیچھے ہے۔ اس کا اندازہ ہماری روز مرہ زندگی میں اردو کی اصطلاحات کے استعمال سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔
کراچی اور حیدر آباد کے درمیان سپر ہائی وے پر سفر کرنے والے ان بڑے بڑے بورڈوں سے بخوبی واقف ہون گے جن پر شاہراہوں پر محفوظ سفر کے حوالے سے ہدایات رقم ہیں۔
ان تمام بورڈوں میں سے بمشکل دس فیصد اردو میں ہوں گے۔ اور اس شاہراہ پرسفر کرنے والے ٹرک ڈرائیوران کی اکثریت ان پڑھ ہے۔ ہے نا بھیانک مذاق؟
بہر حال یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔
اردو اور انٹرنیٹ کی دنیا کا جائزہ لیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ پھر بلاگرز کی تعداد تو اور کم ہے۔ یہ سب گنتی کے لوگ ہیں جو کہ اس حال میں اردو پہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں جب کہ معاشرے میں اردو اپنا مقام کھوتی جا رہی ہے۔
گزشتہ دنوں اردو بلاگستان میں بہت کچھ ہوا۔ یہ سب ایک دم نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے کوئی بیرونی سازشی عناصر نہیں تھے، بلکہ یہ سب کافی عرصے سے آہستہ آہستہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس بات سے قطع نظر کہ قصور وار کون تھا، یہ ایام کچھ اچھے نہیں تھے۔ اس کے بعد میں نے سوچا کہ کیا اردو بلاگروں کو اسی طرح آزاد رہنا چاہئے، کہ جس کہ منہ میں جو آیا بول دیا، جو پسند آیا لکھ ڈالا اور کسی کی پرواہ نہیں۔ یا پھر کوئی ایک ضابطہ ہونا چاہئے جس کو تمام بلاگران نظر میں رکھ کر اپنی گزارشات پیش کریں۔
ضابطہ اگر ہو بھی تو اس کا نفاذ کون یقینی بنائے گا، یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس بارے میں٘ میرے بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے بھی بات چیت ہوتی رہی ہے، ہفتہ بلاگستان کے سلسلے میں میں نے بھی ایک دو انگریزی تحاریر کا ترجمہ پیش کیا تھا مگر بات وہیں پر آ کر رک گئی کہ یہ ضابطہ اخلاق کون نافذ کرے گا۔
مگر ہر زندہ انسان اپنی نظر سے آس پاس کی دنیا کو دیکھتا ہے اور ہم بلاگرز اس سے چنداں مختلف نہیں۔ ہماری اپنی سیاسی ، مذہبی اور معاشرتی ترجیحات ہیں اور ہم سب ان ترجیحات کے مطابق اپنی دنیا کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہم میں سے ہر ایک کا بلاگ اس کی زندگی کا ذاتی حصہ ہے اور اگر ہم میں سے کوئی اس ذاتی گوشے کو دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے تو مختلف رد عمل سامنے آتے ہیں اور ان سب کی بنیادی وجوہات میں نے پچھلے جملے میں گنوائی ہیں۔ جو بھی صاحب بلاگ کا نقطہ نظر ہو اس سے ضروری نہیں کہ ہر ایک متفق ہو، اور یوں اس پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔
عنیقہ کے بلاگ پر کچھ عرصہ ہوا ان کی کسی تحریر پر تبصروں میں میں نے انھیں کچھ انگریزی بلاگروں کی تعریف کرتے پایا۔ انھوں نے ضرور کوئی اچھی باتیں دیکھی ہوں گی کہ تعریف کر ڈالی اور غالبا گلہ کیا کہ اردو بلاگرز ایسا کیوں نہیں لکھتے۔ اردو بلاگرز کے پاس چند گنے چنے موضوعات ہیں اور بس ایک دوسرے پر حملے ہی کئے جاتے ہیں۔
میں اس تحریر کے بعد سمجھتا تھا کہ شائد ہم ابھی ذہنی طور پر اتنے بالغ نہیں ہوئے کہ بلاگنگ کرسکیں، مگر آج ورڈ پریس ٹی وی پر ایک وڈیو دیکھی تو اندازہ ہوا کہ یہ مسائل تو شائد ثقہ انگریزی بلاگروں کو بھی درپیش ہیں۔ گویا انسانوں کی فطرت ایک جیسی ہی ہے۔
آپ بھی اڑتالیس منٹ کی یہ وڈیو دیکھئیے ۔
http://wordpress.tv/2010/07/10/healthy-blog-community-boulder10/
مجھے امید ہے جہاں ہم نے انگریزوں سے اور باتیں سیکھی ہیں، بلاگنگ کے آداب بھی سیکھ جائیں گے۔
Unable to locate WordPress Content directory (wp-content) .
ورڈ پریس 0۔3 پر اپگریڈ کے بعد میرے پاس اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے لئے کافی وقت تھا لہذا میں نے سوچا کیوں نہ مختلف پلگ انز کے ساتھ کھیلا جائے۔ اسی دوران جب میں نے ڈیش بورڈ سے ہی پلگ انز کو انسٹال کرنے کی کوشش کی تو مجھے ورڈ پریس نے بتایا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا۔
اس مسئلے کے ساتھ پہلے ہی میں کافی چھیڑ چھاڑ کر چکا تھا مگر اللہ کی مرضی یہ تھی کہ اس وقت حل معلوم نہ ہو، لہذا میں ناکام رہا تھا۔ مجھے پہلے ہی شک تھا کہ چونکہ میں نے ورڈ پریس ایک سب ڈومین پر انسٹال کیا ہے اس لئے یہ نہیں ہو پا رہا۔ میری ڈومین پر اس وقت میں نے کچھ خاص کام تو کیا نہیں ہے، اس لئے میں اپنا بلاگ وہاں منتقل کر سکتا تھا، مگر میرے بلا گ کا موجودہ لنک سب کے پاس ہے، اور تبدیلی کے بعد سب کو بتانا، بلاگ ایگریگیٹرز میں دوبارہ اندراج اور ایسے دوسرے مسئلے کافی تکلیف دہ ہوتے ہیں، لہذا میں اسی سب ڈومین کے ساتھ ہی کوئی حل چاہ رہا تھا۔
مندرجہ بالا انتباہ کافی مرتبہ مجھے ملا۔ اگر کوئی تھیم چڑھانی ہو، یا پلگ ان، ہر مرتبہ یہ مسئلہ ہوتا تھا، ایک سطر میرا منہ چڑا رہی ہوتی تھی۔
Unable to locate WordPress Content directory (wp-content)
رات کو میں نے ورڈ پریس کے سپورٹ فورم پر تلاش کیا تو علم ہوا کہ میری طرح بہت سے ہیں جنھوں نے سب ڈومین پر ورڈ پریس انسٹال کیا ہے اور پھر پلگ ان اپڈیٹ ڈیش بورڈ سے نہیں کر پا رہے۔ فائل زیلا کا استعمال اچھا تو ہے، مگر ایک زپ فائل اتارنا، ان زپ کرنا اور پھر اپ لوڈ کرنا بذات خود ایک مسئلہ ہے۔
مجھے اس ربط پر تین حل ملے۔
پہلا حل کامیاب کیا ہوتا، بلاگ تک میری رسائی ہی بند کر گیا۔ مجھے فائل زیلا کی مدد سے کنفگ فائل اتار کر اسے پہلی حالت میں لانا پڑا ، تب کہیں جا کر میرا بلاگ نظر آیا۔
اس کے بعد دوسرے مجوزہ حل کو میں نے ہاتھ ہی نہیں لگایا ڈر کے مارے۔ اور کسی اور حل کی تلاش میں دوبارہ گوگل کی طرف جانے ہی والا تھا کہ ایک پلگ ان پر نظر پڑ گئی۔
اس پلگ ان نے میری مشکل آسان کر دی۔ فری ہوسٹنگ والوں کے لئے یہ پلگ ان نعمت غیر مترقبہ ثابت ہو سکتا ہے۔ میں نے پلگ ان اتارا، ان زپ کیا اور فائل زیلا کی مدد سے چڑھا کر فعال کر دیا۔ اور میری تمام مشکل حل۔
نمونہ ::
یہ اور بات کہ اب یہ والا پلگ ان اس لئے کام نہیں کر رہا کہ فری ہوسٹ نے کچھ آپشن میرے لئے چھوڑے نہیں۔ اب سارے کام مفت تو نہیں ہوں گے نا!!!!
واضح رہے کہ یہ پلگ ان جس نے میرے لئے اپڈیٹ کی مشکل آسان کی ہے، شائد ہر فری ہوسٹ پر کام نہ کرے۔
119 viewsنیا درد سر
کچھ اسی بیماری کا شکار میں تب سے ہوا ہوں جب سے لینکس استعمال کرنا شروع کیا۔ 2003 کے بعد سے بہت سے ڈسٹرو آزما ڈالے مگر کوئی بھی زیادہ عرصے چل نہ سکا۔ صرف فیڈورا 13 انسٹال نہیں ہو پارہا ورنہ وہ بھی آج میرے زیر استعمال ہوتا۔ ایس خبیث ڈسٹرو ہے یہ فیڈورا کہ ورچوئل باکس میں بھی چلنے کا نام نہیں لے رہی۔
بہر حال، اوپن سوسی 2۔11 کے انسٹال کے بعد، کیونکہ ابنٹو 04۔10 نے چلنے سے انکار کر دیا تھا، میں نے سسٹم سے واقفیت حاصل کرکے سکون کا سانس لیا ہی تھا کہ علم ہوا کہ 3۔11 ورژن نکل آیا ہے۔ اف میرے خدا۔۔۔۔
اب 4 جی بی کی ڈی وی ڈی ڈاؤنلوڈ کرو، جس کے مکمل اترنے میں بھی آٹھ گھنٹے لگیں گے، اور پھر ڈی وی ڈی پہ لکھنے کے بعد اس سے سسٹم اپگریڈ بھی کرو!!!
میرا ویک اینڈ تو گیا۔۔۔
A Victory for the Secular Taliban

Click here to read full text of the news report from BBC.
France's lower house of parliament has overwhelmingly approved a bill that would ban wearing the Islamic full veil in public.
There were 335 votes for the bill and only one against in the 557-seat National Assembly.
The niqab and burka are widely seen in France as threats to women's rights and the secular nature of the state.
"Democracy thrives when it is open-faced," Ms Alliot-Marie told the National Assembly when she presented the bill last week.
She stressed the bill, which makes no reference to Islam or veils, was not aimed at "stigmatising or singling out a religion".
Berengere
Poletti, an MP from Mr Sarkozy's centre-right UMP party, said women in
full veils wore "a sign of alienation on their faces" and had to be
"liberated".Andre Gerin of the Communist opposition compared the veil to "a walking coffin, a muzzle".
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب جمہوریت کو مستحکم کرنے کے نام پر کیا جا رہا ہے جو کہ خود اکثر برائیوں کی جڑ ہے۔ آج کل جمہوریت کو اتنی اہمیت دی جا رہی ہے کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت موجودہ دور کے اوثان میں سے ایک وثن ہے۔
اب بھی وقت ہے روشن خیالو!! سنبھل جاؤ اور لوٹ آؤ اپنی تہذیب اور معاشرے کی طرف۔
محبت کی ادھوری نظم
ستمبر کے مہینے کا شاید وہ آخری دن تھا
برس گزرے کئی
میں نے محبت لفظ لکھا تھا
کسی کاغذ کے ٹکڑے پر
اچانک یاد آیا ھے
برس گزرے کئی
مجھ کو کسی سے بات کرنی تھی
اسے کہنا تھا جان جاں " مجھے تم سے محبت ھے"
مگر میں کہہ نہیں پایا
وہ کاغذ آج تک لپٹا پڑا ھے دھول میں لیکن
کسی کو دے نہیں پایا
دوبارہ چاہ کر بھی میں محبت کر نہیں پایا۔
نوید ھاشمی
168 viewsخداوندا
کسی بھی شیمپو کے مسلسل استعمال سے بال لمبے نہیں ہو سکتے کہ بالون کی لمبائی کا تعین جینیاتی طور پر ہوتا ہے،
کسی بھی بیوٹی سوپ کے استعمال سے کوئی لیلی ، ممتاز محل نہیں بن سکتی کہ وجہ وہی جینیاتی ہے۔
ڈالڈا کی مامتا اور ماں کی مامتا میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
صرف پرفیوم لگا کر کسی کو متاثر نہیں کیا جا سکتا، خصوصا اگر حلیہ لباس کے حوالے سے "مراثیوں " والا لگ رہا ہو۔
دنیا کا کوئی بھی شیمپو سر کے بالوں کی عام خشکی کو مکمل ختم نہیں کر سکتا ، سوائے اس کے کہ سر کی خشکی فنگس کی وجہ سے ہو، اور اس کا علاج ہیڈ اینڈ شولڈر جیسے شیمپو نہیں کر سکتے۔
بناسپتی گھی کبھی خالص گھی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
صرف 35 روپے میں بکنے والی کریم سے محیر العقول معجزات کی توقع ایک بے وقوف لڑکی ہی کر سکتی ہے۔
دودھ والے سے خالص دودھ کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔
اسی طرح صرف سیاسی بیانوں سے ملک میں صحت کے شعبہ میں بہتری کی توقع رکھنا بے وقوفی ہے۔
ایک ساٹھ سالہ عورت جو اپنی سانس کی بیماری کا بروقت علاج اس لئے نہیں کر واسکی کہ اس کے پاس رقم نہیں تھی۔ اب بیرون ملک مقیم بیٹے کی کمائی کے بل بوتے پر اگر ہسپتال آئی ہے تو نقصان اتنا زیادہ ہے کہ شائد وہ مسلسل آکسیجن کے بغیر رہ نہ سکے۔
جو لوگ روٹی نہیں خرید سکتے، وہ آکسیجن کیسے خریدیں گے؟
پاکستان کے تعلیمی ادارے، مسائل اور ممکنہ حل
میرا پاکستان نے نذر حافی صاحب کی ایک تحریر بعنوان پاکستان کے دینی مدارس کو در پیش مشکلات اور اُن کا حل شائع کی ہے۔ تحریر اپنی جگہ پر بہت اچھی ہے، اور ان کے دلائل کافی پر زور ہیں ، مگر صرف دینی مدارس پر توجہ دینے سے کچھ ایسا تاثر ابھرتا ہے کہ جیسے ملک کے موجودہ بحرانی حالات کے ذمہ دار صرف اور صرف یہی ادارے ہیں۔ میں نے اس بات کی طرف توجہ وہاں بھی دلائی اور درخواست کی کہ کچھ دیگر اداروں کے بارے میں بھی ارشاد ہوجائے۔ نذر حافی صاحب کے دلائل دو دھاری تلوار کی طرح ہیں، معمولی رد و بدل کے ساتھ انھیں کوئی اور بھی اپنے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کوشش میںنے بھی کی۔ کافی حد تک ان کے دلائل کی تدوین کے بعد بھی مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ ان کی ترتیب اسی طرح ہے ۔
میرا مراسلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے:
جدیدیت کے جنون میں مبتلا اسلامی دنیا میں عصری علوم کی تعلیم کے لئے قائم کئے گئے اداروں کو کو جو اہم حیثیت حاصل ہے وہ کسی اور ادارے کو حاصل نہیں۔کسی بھی اسلامی ملک کے عوامی حلقوںمیں عصری علوم کے بارے میں شعورجتنا زیادہ ہو مدارس کا اثر و رسوخ بھی اتنا ہی زیادہ ہوتاہے۔ان اداروں کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ بعض اوقات ایک ایسا ادارہ بیک وقت کئ ذیلی اداروں ،شعبہ جات، کمپیوٹرسنٹرزاورلائبریریوں نیزدیگر سماجی سرگرمیوں کی فعالیت کامرکزہوتاہے۔ جب ہم پاکستان جیسے اسلامی ملک میں قائم شدہ عصری علوم کے اداروں کی صورت حال پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں اعتراف کرناپڑتاہے کہ یہاں پر ان تعلیمی اداروں کو عوامی حلقوں میں وہ مرکزی اہمیت حاصل نہیں جو ہونی چاہیے۔ظاہرہے کہ جب کسی بھی مرکزی سطح کے ادارے کومرکزی اہمیت نہ ملے تو عوام پراس کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے اورلوگوں میں اس کی مقبولیت کا گراف بھی نیچے آجاتا ہے۔ پھرلوگ ایسے اداروں کو معاشرے پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں اور یا پھر انہیں آثار قدیمہ کی متبرک عمارتوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کہ جو بلڈنگ بھی عصر حاضر کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دیتی وہ خود بخود آثار قدیمہ کا حصہ بن جاتی ہے۔
نظام تعلیم سے متعلقہ افراد کو مندرجہ اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
۱۔ ایسے طالب علم جو خود تو پاکستان کے کسی ایسے تعلیمی ادارے میں نہیں پڑھے لیکن بیرون ملک زیر تعلیم ہیں اور ان کا ہر روز پاکستان سے پڑھ کر آنے والے طالبعلموں سے واسطہ پڑھتاہے۔
۲۔ ایسے طالب علم جو پاکستانی اداروں سے تحصیل علم کے بعد اب بیرون ملک کے اداروں میں زیر تعلیم رہے۔
۳۔ ایسے طالب علم جو پاکستانی اداروں میں کچھ عرصے کے لئے بطور مدرّس اپنی خدمات انجام دےچکے ہیں۔
۴۔ ایسے طالب علم جو بیرون ملک زیرِ تعلیم ہیں لیکن پاکستان میں بعض اداروں کے نظام تعلیم سے بھی مربوط ہیں۔
۵۔ ایسے حضرات جو بیرونی ممالک سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستانی اداروں میں مشغول تدریس ہیں یا پھر انہوں نے اپنےتعلیمی ادارے قائم کئے ہوئے ہیں۔ ہماری جمع کردہ معلومات اور اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں کو کچھ خارجی اور کچھ داخلی مسائل درپیش ہیں ۔
سب سے پہلےہم خارجی مسائل کا ذکر کرتے ہیں بعد میں داخلی مسائل اور آخر میں ان کا حل ذکر کریں گے۔
تعلیمی اداروں کو لاحق خارجی مسائل:
۱۔ حکومتی پالیسی : سب سے بڑا خارجی مسئلہ یکساں حکومتی پالیسی کی غیر موجودگی ہے۔ ایک ہی حکومت کے ہوتے ہوئے کم و بیش 4 قسم کے تعلیمی نظام اس ملک میں چل رہے ہیں۔ دینی مدارس اس کے علاوہ ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی نظام تعلیم پر حکومت کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہے۔ اور جہاں اختیار ہے، وہاں ارباب اقتدار کو علم ہی نہیں کہ کونسی جہت اختیار کرنا ضروری ہے۔ وقتی بنیاد پر تعلیمی نظام میں تبدیلیاں لانا اور پھر انھیں لوٹانا کنفیوز ارباب اختیار کا مرغوب مشغلہ ہے۔ ایسا وزیر تعلیم جو کہ مغربی نظام تعلیم کا سند یافتہ ہے، کہاں ملے گا جسے قرآن مجید کے سپاروں کی تعداد ہی نہ آتی ہو؟ مگر یہ سب اس سرزمین میں ممکن ہے جسے ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیتے ہیں۔ ایلوپیتھک طبی تعلیم کا تفاوت تو اپنی جگہ پر، ابھی تک فیصلہ ہی نہیں کیا جا سکا کہ طبیہ کالجز سے فارغ التحصیل اطبا کو کیا مقام دیا جائے۔ ہومیو پیتھک طریقہ علاج پر کڑی نظر نہ رکھنے کا نقصان یہ ہوا ہے کہ میٹرک فیل لوگ ہومیو ڈاکٹرز کا بورڈ لگائے لوگوں کی جانوں سے کھیلتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے "عصری " نظام تعلیم کی سب سے بری خامی جعل سازوں کے احتساب میں ناکامی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جعلی اسناد کے بل بوتے پر ہمارے حکمران اس قوم کے نیا ڈبورہے ہیں۔ عامر لیاقت حسین ہو، عبدالباسط ہو یا بابر اعوان، یہ سب حکومتی پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اتنی واشگاف خامیوں کے باوجود اگر اس نظام تعلیم کو اچھا کہا جائے تو حیرت ہی ہوگی۔
۲۔ میڈیا کا کردار : جیسا کہ پچھلے نکتے میں عرض کیا گیا، جعلی اسناد کے حامل ہمارے حکمرانوں کااحتساب بہت ضروری ہے، مگر جہاں صرف انگریزی تعلیم کو ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہو، اور جہاں رٹے کی بنیاد پر تین گھنٹوں میں پرچے حل کروا کر پاس یا فیل کروایا جاتا ہو، وہاں معروضی بنیادوں پر تعلیم کاخواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے؟
جعلی اسناد کے حاملین کو جب میڈیا اہمیت دے تو لوگوں کے ذہنون میں لا محالہ یہ خیال تقویت پکڑے گا کہ تعلیم وغیرہ کچھ نہیں، اصل چیز اختیاراور طاقت ہے چاہے جیسے حاصل کی جائے۔ نتیجہ معاشرے میں ایسے بگاڑ کی صورت میں نکلے گا جس کا علاج شائد کبھی ہو نہ سکے۔میڈیا کو چاہئے کہ وہ لوگوں میں یہ شعور پیدا کرے کہ وہ لوگ جو آج کل پوری قوم کےحالات کے ذمہ دار ہیں، اکثر یا تو غیر تعلیم یافتہ تھے، یا پھر پڑھے لکھے جاہل تھے۔ ملک و قوم کی سب خرابیوں کا ذمہ دار صرف ایک مخصوص قسم کے نظام تعلیم کو ٹھہرانے سے اگر مسائل حل ہو جاتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔
۳۔ بعض علاقائی و مقامی با اثر شخصیات کا کردار : اپنی چوہدراہٹ کو قائم رکھنے کے لئے ایسے لوگ اکثر تعلیمی اداروں میں بگاڑ پیدا کرنے کا مؤجب بنتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لئے یہ عناصر سیاسی جماعتوں کی بچہ تنظیمیں بنا کر ان سے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ایسی کئی مثالیں آپ اپنے گردو پیش میں دیکھ سکتے ہیں۔
۴۔ عوامی رائے عامہ حکومت، میڈیا اور کرپٹ عناصر عوام کی سادہ لوحی سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت سنی سنائی باتوں پر اپنی رائے قائم کر لیتی ہیں۔اس لئے وہ اکثر اوقات عوامی رائے عامہ کوتعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے خلاف اکسانے میں مصروف رہتے ہیں، جس سے عوام ایک تو ایسےتعلیمی اداروں کی مشکلات کے بارےیں ہمدردانہ غور و فکر نہیں کرتے اور دوسرے حکومت یا بدعنوان عناصر کے خلاف مدارس کی پشت پناہی بھی نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اکثر بد عنوان عناصر کے بارے میں خاموش رہنے میں ہی عافیت تصور کرتی ہے۔
۵۔ تعلیمی اداروں میں باہمی رابطے کا فقدان : تعلیمی اداروں کے لئے ایک بڑی مشکل باہمی رابطے کا فقدان ہے، اور اس کی بڑی واضح مثال ان کے تعلیمی نصاب اور ان کے امتحانی نظام میں فر ق سے نظر آئے گی۔ نصاب اور طریقہ تعلیم کا یہ فرق کبھی کبھی ایک ہی گلی میں کھلے دو سکولوں کے طلبا کے موازنے سے بھی ہو جائے گا اور کبھی آپ کو اے اور او لیول کے طلبا کے لئَ قائم شدہ ٹیوشن اکیڈمیوں کے باہر کھڑی گاڑیوں کی تعداد سے۔ ملک کے تقریبا تمام سکولوں کا نصاب اور طریقہ تعلیم ان سکولوں سے جدا ہے۔ مگر اے اور او لیولز کا رجحان ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔عصری تعلیم کے اداروں میں موجود اس فرق کو اگر ختم نہ کیا گیا تو ڈر ہے کہ جلد ہی ایسے جاہل کثیر مقدار میں ملیں گے جو پڑھ لکھ تو سکتے ہیں مگر ان میں کسی دوسرے نقطہ نظر کو برداشت کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔
۶۔ وزارت تعلیم کی پالیسیاں : آج تک یہ علم نہیں ہو سکا کہ وزارت تعلیم کا کام کیا ہے۔ وزیر تعلیم کی مثال اوپر دی جاچکی۔ میری نظر سے نرسری کی کلاس کا اردو حروف تہجی کا ایک قاعدہ گزرا جس میں الف سے انجن بتایا گیا تھا۔ انجن اگرچہ انگریزی زبان کا ایک لفظ ہے مگر قاعدے کے مصنفین نے تنوع اور سمارٹ بننے کے چکر میں بنیادی باتیں ہی بھلا دیں۔ ایک کتاب میں تو یہ بھی لکھا دیکھا کہ دنیا کے تمام مسلمان مغرب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ ایسا نظام تعلیم رٹو توتوں کو جنم تو دے سکتا ہے مگر ۔۔۔ یکساں نصاب کی غیر موجودگی، اور پھر اسکے نفاذ کے اہتمام کے ناکافی ہونے سے جو مسائل پیدا ہورہے ہیں وہ ارباب اقتدار کی نفس پرستی کی وجہ سے نظر انداز ہو رہے ہیں۔ موجودہ بجٹ میں تو تعلیم کا حصہ اور بھی کم کر دیا گیا۔
۷۔ ٹرسٹیز کی صورتحال: کچھ جگہوں پریہ دیکھنے میں آیاہے کہ تعلیمی اداروں کو چلانے کے لئے ٹرسٹ بنائے جاتے ہیں ۔بعض اوقات یہ ٹرسٹ ایسے افرادپرمشتمل ہوتےہیں جن کا شعبہ تعلیم سے کسی طرح کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے افراد ٹرسٹ میں اپنی اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں اورادارے کے پرنسپل یا منتظم کو اپنی پالیسوں کے تحت چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس سے ادارے کے قیام کے مقاصد کو نقصان پہنچتا ہے اور اسی طرح بعض مقامات پر جان بوجھ کرمحض فنانس اکٹھاکرنے کے لئے ہر طرح کے افراد کو ٹرسٹ میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ظاہر ہے اس طرح کے ٹرسٹ بنانے سے بڑی بڑی عمارتیں تو بن جاتی ہیں لیکن کو ئی علمی و فکری پیش رفت نہیں ہو پاتی۔ مثال کے طور پر نجی طبی تعلیمی ادارے۔جن میں چند ایک اداروں کے سوا باقی سب کے اساتذہ مالک ادارہ کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
8۔علماء سو اورنام نہاد مفکرین کاکردار بہت سارے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر اپنے چہروں پر دینداری کاماسک چڑھایاہواہوتاہے۔یہ صرف اور صرف اپنے نام و نمود اور رقم بٹورنےکے چکرمیں ہوتے ہیں۔فتویِ بازی اور دین میں بدعات کو فروغ دینا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔اسی طرح بعض حضرات فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے ٹھگوں کی طرح اپنے نام کے ساتھ “ڈاکٹر”اور”پروفیسر”لگاکربھی لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ مثالیں پیش کی جا چکی ہیں۔
یہاں تک تو تعلیمی اداروں کے خارجی مسائل کا ذکرتھا، آئیے اب دیکھتے ہیں کہ پاکستان کےتعلیمی اداروں کے داخلی مسائل کیا ہیں۔
۱۔ تعلیمی نظام کی مشکلات ان تعلیمی اداروں میں مقدمات اور علوم اصلی تو پڑھائے جاتے ہیں لیکن علوم عملی پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ مقدمات سے لے کر علوم اصلی سمیت تمام طالب علموں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔ مثلاً جو طالبعلم،بی ایس سی کر کےمیڈیکل کالج میں داخلہ لیتا ہے اور جو ایف ایس سی پاس کر کے آتا ہے دونوں کے ہاتھ میں ایک ہی کتاب تھما دی جاتی ہے۔ کتابوں کو تبدیل کرنے، مطالب کو نئے انداز میں ڈھالنے یا نئی کتابیں لکھنے کو گویا شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ ان ادروں کے تعلیمی نظام میں طلاب کی ذہنی سطح کی درجہ بندی کے مطابق اُنہیں تعلیم دینے کا کوئی خاص نظام موجود نہیں۔ جس کے باعث ایک لمبے عرصے تک طلاب قدیم کتابوں کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں اور جب معاشرے میں عملی خدمت انجام دینے کے لئے قدم رکھتے ہیں تو جدید علمی تقاضوں کو نبھانے کے سلسلے میں ان کا ہاتھ خالی ہوتا ہے۔
۲۔ تربیتی نظام کا نہ ہونا ارباب علم و دانش پر واضح ہے کہ یہ ادارے فقط تعلیمی ادارے نہیں ہیں بلکہ تعلیمی و تربیتی ادارے ہیں۔ ایک تعلیمی ادارے میں تعلیمی نظام بدن کی جبکہ تربیتی نظام روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ فرض کیا کہ تعلیمی نظام کے حوالے سے ان اداروں کے پاس کسی حد تک ایک لائحہ عمل موجود ہے لیکن تربیتی حوالے سےلیکچرز کو ہی کافی سمجھ لیا گیا ہے پھر زیادہ سے زیادہ اخلاقی دروس کا اہتمام کر کے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ طالب علموں کی تربیت ہو رہی ہے حالانکہ تربیت فکری سے بڑھ کر عملی چیز کا نام ہے۔ مگر ہمارے ان تعلیمی اداروں کے اکثر اساتذہ کرام روز مرہ کی مشکلات کا حل ٹیوشن کو قرار دے کر اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ان کے پاس طلبا کے لئے تربیت کا کوئی عملی نمونہ نہیں ہوتا۔ اس عملی نمونے کی غیر موجودگی کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ طلبا رٹے ہوئے اسباق کو عملی زندگی کے بے رحمی کا شکار ہو کر بھول جاتے ہیں اور پھر ان میں اور جہلا میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔
۳۔ اساتذہ کے تعیّن، ترقی اور علمی رُشد کا انتظام نہ ہونا عصری علوم کی ساکھ اور فعالیت کو متاثر کرنے والی ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ عام طور پران اداروں کے پاس اساتذہ کے تعیّن، ترقی اور علمی رشد کا کوئی انتظام نہیں۔ اکثر جگہوں پر یہ ہوتا ہے کہ جس شخص کو جو مضمون آتا ہے وہ بعد میں وہی مضمون پڑھانے لگ جاتا ہے۔ ایسا شخص ممکن ہے کہ “کتاب” تو پڑھا لے لیکن چونکہ بطورِ استاد اُس کی تربیت نہیں ہوئی ہوتی لہذا اُسے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ ایک استاد کو کن اخلاقی و معنوی اوصاف سے آراستہ ہونا چاہیے۔ چنانچہ برس ہا برس کی محنت کے باوجود ایسے استاد کے حلقہ درس سے خود اس کی سطح کے طالب علم بھی نہیں نکلتے۔ ایسے اساتذہ کے وجود میں آنے کے باعث ایک تو دیگر طلاب کی علمی ترقی رک جاتی ہے اور دوسرے خود ایسے اساتذہ بھی علمی طور پر ترقی نہیں کر پاتے اور انہی کتابوں کو جن کی تدریس کر رہے ہوتے ہیں لگے لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے تعلیمی سلسلے کوآگے جاری نہیں رکھتے حالانکہ اسلام میں علمی ارتقاء کے رُکنے کا کوئی جواز نہیں۔
۴۔ مدارس کی سماجی سرگرمیاں بعض تعلیمی اداروںمیں سماجی سرگرمیاں تو مذہبی سیاسی ٹھیکیداروں کی وجہ سے نہیں ہو پاتیں، اور بعض کی سماجی سرگرمیوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ سرگوشیوں میں ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔سماجی سرگرمیاں اہم ضرور ہیں لیکن سماج کی تربیت کرنے کی خاطر نہ کہ سماج پر تسلط اور دھونس جمانے کی خاطر۔ چونکہ یہ تعلیمی ادارے اور ان کے اساتذہ اور طلبا اسی معاشرے کا حصہ ہیں اس لئے یہاں بھی وہی افراط و تفریط نظر آتی ہے جو ہمارے معاشرے کی پہچان ہے۔
۵۔ طلبا کے انتخاب کے سلسلے میں مشکلات تعلیمی اداروں کے قیام کے وقت مکمل منصوبہ بندی نہیں کی جاتی جس کی بناپر اکثر یہ ہوتا ہے کہ جس شعبے کے ماہرین کی زیادہ قدر ہونی چاہئے، اس شعبے کے تعیمی ادارے یا تو کم ہوتے ہیں، یا پھر دور دراز کے علاقوں میں۔
۶۔تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیموں کا فعال ہونا تعلیمی اداروں کی ایک داخلی مشکل یہ بھی ہے کہ ان کے طلبا اتنی زیادہ طلبا تنظیموں کے ہوتے ہوئے ایک باقاعدہ تربیت سے محروم ہیں جس سے ان کی اجتماعی،علمی اور سیاسی شخصیت میں نکھار نہیں آر اداروں میں یہ تنظیمیں ہاسٹلوں پر قبضے، مخالفین پر پوائینٹ سکورنگ اور امتحانات میں دخل اندازی کرتی ہوئی نظر آئیں گی۔ جس سے بسا اوقات ادارے کے نظم و ضبط پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ طلبا کی شخصیت کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ اپنی جگہ پر ناقابل تلافی ہے۔
۷۔ اساتذہ اور مدیران کی یونین کا نہ ہونا
پاکستانی تعلیمی اداروں کی مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ان کے اساتذہ اور مدیران کوئی فعال یونین نہیں اور اِن کے پاس کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں جس پر جمع ہوکر یہان اداروں کو درپیش مشکلات سے نکالنے کے لئے غوروفکرکرسکیں۔
۸۔ سکول بطورِ ذریعہ آمدن اکثر جگہوں پر یہ ادارے ذریعہ آمدن کے طور پر کھولے جاتے ہیں، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جو لوگ خود جدید تعلیم سے آشنا نہیں ہوتے وہ بھی مخیر حضرات کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے جدیدتعلیم کا نعرہ لگا کر مدرسہ کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر اِن حضرات سے جدید تعلیم کی تعریف پوچھی جائے تو اِن کے نزدیک انگریزی پڑھا جانے اور کمپیوٹر پرسی ڈی چلانے کا نام جدید تعلیم ہے۔اس طرح کے مدارس کے وجود میں آنے سے حقیقی معنوںمیںقوم کی تعلیم و تربیت کا فرض کیسے ادا ہوگا، آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔
یہاں تک تو ذکر تھامسائل کا،آئیے اب ان مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں۔مدارس کی مشکلات کو حل کرنے کے سسلسلے میں ہماری جمع کردہ تجاویز اور مشوروں کا خلاصہ کچھ اس طرح سے ہے:
الف۔ ایک مشترکہ تعلیمی نظام کی بنیاد کی طرف قدم اٹھایا جائے جس میں ہر نظام تعلیم کی خوبیوں کا اعتراف کیا گیا ہو اور اس کی خامیوں کی نشاندہی کر کے ان کا حل بتایا گیا ہو۔
ب۔ دینی علماء اور سیکولر دانشوروں پر مشتمل ایک ایسی ایجوکیشنل ٹیم تیارکی جائے جو نظام تعلیم کے حوالے سے پہلے سے فعال اداروں کی فعالیت و کارکردگی کا جائزہ لے کر بے لاگ رپورٹ لکھے اورپھر ان تعلیمی پروگراموں کے اجراء کے لئے منصوبہ بندی کرے جن کے اجراء کرنے میں یہ ادارے ناکام رہے ہیں۔ جن شعبوں کے ماہرین کی ملک کو اشدضرورت ہے، ان شعبوں کی ترقی و ترویج کا عمل ہنگامی بنیادوں پر کیا جائے۔
ج۔ ملت کے مختلف ماہر ین اقتصادیات کو جمع کر کے تعلیمیاداروں کے لئے فنانشل سپورٹ فنڈ کاپروگرام بنایا جائے تاکہ کوئی بھی ناخواندہ نہ رہ سکے۔ اس سلسلے میں اگر تعلیمی ٹیکس کا نفاذ بھی کرنا پڑے تو اس سے گریز نہ کیا جائے۔
د۔ اساتذہ کے انتخاب اور ان کی علمی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ایک ٹھوس لائحہ عمل بنایاجائے۔ جس میں ان کو تحقیقی کام کا پابند کیا جائے۔ مگر یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہوگا جب ایک استاد کل کی فکر سے آزاد ہو گا۔
ز۔ تعلیمی نظام کو اپ ڈیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام سے ہم آہنگ تربیتی نظام بھی نصاب میں شامل کیا جائے۔
ر۔ پاکستان میں ملکی سطح پر حقیقی معنوںمیں بین الاقوامی معیار کے اداروں کی تشکیل کے لئے لائحہ عمل بنایا جائے۔ س۔ پاکستان کے دور افتادہ علاقوں میں جہاں لوگ بچوں کو ابتدائی تعلیم دلوانے سے بھی قاصر ہیں وہاں پر بھی ایسےادارے ترجیحی بنیادوں پر قائم کئے جائیں جو دینی و بنیادی تعلیم کو پہلے مرحلے میں مقدمات کی حد تک فراہم کرسکتے ہوں۔
ص۔ دینی مدارس میں دینی و دنیاوی تعلیم کی تقسیم ختم کر کے کالج اور یونیورسٹی کے درمیان ایک حسین امتزاج قائم کرنے کے لئے سنجیدہ طور پر غور و فکر کی جائے۔
ض۔ مدارس کے اندر علوم کو عملی طور پر قابل استفادہ بنانے کے لئے ریسرچ سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے جو مندرجہ ذیل شعبوں پر کام کریں۔
۱۔ ترجمہ ۲۔ تصنیف ۳۔ تالیف ۴۔ تحقیق ۵۔ تبلیغ ۶۔ تقریر۷۔ تحریر ۸۔ تکلم [اردو،فارسی، عربی، انگلش]۔ ۹۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ۱۰۔تدریس ۱۱۔مدیریت ۱۲۔علوم سیاسی
واضح رہے کہ یہ فہرست اور ممکنہ حل ناکافی ہیں۔ ان سب نکات پر ایک اتفاق رائے کے بعد ہی عمل ہو سکتا ہے۔ اور یہ اتفاق رائے جتنا جلد ہو، اتنا ہی اچھا ہے۔
سیاسی اپڈیٹ
آج خیبر پختونخوا کے ڈاکٹرز کے لئے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا گیا۔
ایوب میڈیکل کالج کے سیمینار ہال میںتمام ڈاکٹروں کی ایک جنرل باڈی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس جنرل باڈی میٹنگ کے لئے ہمارے دوستوں نے کافی محنت کی۔ ایبٹ آباد اور اس کے قریبی اضلاع کے بڑے ہسپتالوں کے دورے کئے، وہاںاپنے سینئرز سے ملاقات کی اور انھیں اس جدو جہد کے بارے میںبتایا۔
ہمارے ٹیچنگ ہسپتال کی اپنی سیاست بہت گندی سیاست ہے، اس کی طرف میںپہلے بھی اشارہ کر چکا ہوں۔ یہاں اجتماعی مفاد کی بات کرنے سے پہلے یہ سوچا جاتا ہے کہ اپنا فائدہ کتنا ہوگا۔ ایسے میں اصولوںکی بنیاد پر کوئی نئی بات کرنا تقریبا نا ممکن ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹرز کی نمائیندہ تنظیم پی ڈی اے گو کہ ایبٹ آباد میں موجود ہے، مگر اس کی حالیہ کابینہ سے کافی لوگوں کو شکائت رہی ہے اور یہ شکائت جائز بھی تھی۔ اس یونٹ کی سستی اور ناہلی نے پھر ہمیںمجبور کیا کہ ہم اٹھیں اور زمام کار ہاتھ میں لے کر آگے بڑھیں۔ ہماری نا تجربہ کاری، مگر اخلاص اور ہمت نے ہمیں بہت کچھ سکھایا۔
پی ڈی اے کے متوازی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بنا ڈالنا اور پھر اسے چلانا ایک مشکل کام تھا، مگر ہمارے پنجاب کے ساتھیوں نے لمحہ بہ لمحہ ہماری رہنمائی کی۔ بعض اوقات تو انگلی پکڑ کر بھی چلایا۔ پشاور میں موجود تجربہ کار دوستوں نے بہت مفید مشورے دیئے۔
متوازی تنظیم ہونے کے ناتے سے ہمارا کردار ایک پریشر گروپ کا سا رہا ہے، مگر ہم نے کبھی بھی اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیںکی۔ پھر بھی بہت سے لوگوں کے ذہنوں میںخدشات تھے۔ کبھی ہمیںجماعت اسلامی کا ہراول دستہ قرار دیا گیا، کبھی پیپلز پارٹی کے ایجنٹ اور کبھی محض شرپسندی پر آمادہ ڈاکٹرز کے ایک گروہ کے طور پر ہمارا تعارف کروایا گیا۔ ان سب باتوںمیںکبھی کوئی صداقت نہیںرہی۔ ہم نے ہر تنقید کا یہی جواب دیا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر کام کر سکتا ہے تو وہ آئے اور ہماری قیادت کرے۔ ہم بخوشی کسی کی قیادت میںکام کر لیںگے، کہ ہمیںکام سے غرضہے ، قیادت سے نہیں۔ مگر ، آگے کوئی آتا نہیںتھا، کام کوئی کرتا نہیںتھا، اور تنقید مسلسل کی جاتی تھی۔ حتی کہ ہمیںاینٹی اسٹیبلشمنٹ بھی تصور کیا گیا۔ اور ان حالات میں آٹھ جون 2010 کا واقعہ پیش آیا ، جب بد تمیزی بھی ہمارے ساتھ ہوئی، دھمکیاں بھی ہمیںدی گئیں اور پھر ہماری ہی ٹریننگ کے اختتام کی سفارشات پشاور بھیجی گئیں۔
اس مرحلے پر بہت سے دوستوںنے مدد کی۔ جاپان سے سید یاسر شاہ صاحب نے سب سے زیادہ محبت کا اظہار کیا۔ ان سے میری ملاقات شائد ہی ہو سکے مگر ان کے حوالے سے جن سے بھی بات ہوئی، گو کہ ہم ان کو زحمت نہ دے سکے، انھوںنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ قیصر بھائی کو ہم نے زیادہ تکلیف پھر نہیںدی کہ یہ توپ سے مچھر مارنے والی بات ہوتی۔
مگر دل کو یہ اطمینان رہا کہ "ہمارا بھی کوئی ہے" الحمدللہ کسی کو تکلیف دیئے بغیر ہی ہمارا وہ مسئلہ حل ہو گیا۔ اس کے بعد ہمارے سامنے بڑا مقصد تھا۔ گزشتہ برس کی ہڑتال حکومت کے اس وعدے پر ختم کی گئی تھی کہ حکومت صرف چار ہفتوں میں ڈاکٹرز کے لئے سروس سٹرکچر منظور کر لے گی، مگر
وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو
10 ماہ گزر گئے، ہمارے دوست ہم سے پوچھتے تھے کہ ہم نے کیا کیا اور ہمارے پاس جواب نہ ہوتا تھا۔ مذکورہ بالا ربط اسی سروس سٹرکچر کے ڈرافٹ کا ہے جو حکومت سے مذاکرات کے بعد ایک اتفاق رائے سے طے پایا تھا۔ اور فیصلہ یہ ہوا تھا کہ اسے ایک ماہ میں نافذ کر دیا جائے گا۔ گو کہ اس میںابھی بھی بہتری کی گنجائش ہے مگر یہ دستاویز کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے۔
آخر پشاور کے پی ڈی اے یونٹ نے اس کام کو مکمل کرنے کا بیڑا اٹھایا اور صوبے میںتحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ اس میںبھی مذاکرات کا لالچ دے کر روڑے اٹکائے گئے۔ مگر یکم جولائی 2010 کو صوبے کے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میںہڑتال کا اعلان تبدیل نہ ہوسکا۔
آج ہماری جنرل باڈی میٹنگ اسی سلسلے میںہوئی کہ آگے کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ پشاور سے پی ڈی اے کے نمائیندے بھی مدعو تھے۔ خؤشی کی بات یہ ہوئی کہ ینگ ڈاکٹرز اور پی ڈی اے کے درمیان بات چیت مثبت ماحول میںہوئی اورپی ڈی اے ایبٹ آباد کی موجودہ منتخب قیادت نے اس تحریک کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ یوں ذمہ داری مجھ اور ڈاکٹر حفیظ سے ہٹ کر سب پر آ گئی۔ میںاور ڈاکٹر حفیظ تو ایسے ہی نظروں میںآ گئے ہیں، ورنہ ہم سے بھی اچھے اور فعال ڈاکٹر یہاں پر موجود ہیں۔
آج کی جنرل باڈی میٹنگ کسی دنگے فساد کے بغیر ختم ہو گئی۔ کچھ فریق اپنی بد نیتی کے ساتھ کھل کر سامنے آ گئے اور سب کو علم ہو گیا کہ کون ڈاکٹرز کے لئے کتنا مخلص ہے۔ پی ڈی اے کے موجودہ صدر نے پشاور کے ڈاکٹرز کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کل یکم جولائی 2010 کوایوب ٹیچنگ ہسپتال کو ایک دن کے لئے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ ایمرجنسی سروس موجود ہو گی۔
ہمیںخود بھی ہڑتالیںکرنا پسند نہیں مگر جب آپ کو حکومت کا ایک وزیر مذاکرات کے دوران یہ کہہ دے کہ "خدا کی قسم جب تک تم لوگ ہڑتال نہیںکرو گے، میںتمہاری بات نہیں سنوںگا" تو پھر آپ کے پاس کوئی راستہ نہیںرہ جاتا۔۔
254 viewsداستان گو
غالبا یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا. سرکاری سکول میں اپنے ہم جماعتوں پر ایک ہی لحاظ سے برتری حاصل تھی کہ پڑھائی میں ان سے آگے تھا. اور اس کی وجہ بھی تھی.
ابو نے ہم سب بہن بھائیوں کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ وہ گاؤں چھوڑ کر، اپنی زمینیں کسی اور کے حوالے کر کے اس لئے شہروں میں سرکاری ملازمت کے حوالے سے سختیاں جھیل رہے ہیں کہ انھیں ہماری تعلیم کا خیال ہے. اگر ہم نے نہیں پڑھنا تو پھر واپس گاؤں....
الحمدللہ ان کی اولاد نے ان کو پریشان نہیں کیا، سوائے میرے. اپنے علاقے کا نام لوں تو جاننے والے ضرور چونک جائیں گے کہ جہاں مردوں کی تعلیم کا رواج نہیں، وہاں میری بہنوں نے گریجویشن کی. غالبا ہمارا گھرانہ ہمارے علاقے میں واحد گھرانہ ہے جس کی لڑکیوں تک نے گریجویشن کی. لڑکے تو خیر بعد کی بات.
بہر حال، میرا ایک ہم جماعت ہوا کرتا تھا موٹا سا، چرب زبان تو میں شائد نہ کہہ سکوں کہ اس وقت کی یادیں اب دھندلا سی گئی ہیں، مگر بہت بولتا تھا. اور آدھی چھٹی میں تو اس کے بولنے کی رفتار تیز ہو جاتی تھی. آدھی چھٹی میں وہ اپنے دوستوں کے درمیان ایک نمایاں انداز میں بیٹھا کوک یا پیپسی پیتے ہوئے بولتا نظر آتا تھا. اس وقت پیپسی 2 یا تین روپے کی آتی تھی، اور پھر بھی بہت سے لوگ ایک بوتل کا موازنہ ان بہت سی چیزوں سے کرکے جو کہ اسی رقم سے خریدی جا سکتی تھیں، پیپسی نہیں لیتے تھے.
اس کا نام اشفاق تھا. اشفاق کے ساتھ حسن، عظیم، سید آصف ، عمران جو اب آرمی میں لیفٹنٹ کرنل ہوگا، اور دوسرے لڑکے بیٹھا کرتے تھے. سوائے عمران کے باقی سب پشاور کے مقامی تھے، جن کو خاریان بھی کہا جاتا ہے.
مجھے یا د ہے اشفاق بہت اچھا داستان گو تھا. ہر وقت اس کے لبوں پر ایک داستان رہتی تھی جس ما مرکزی کردار اکثر اشفاق خود ہوتا تھا. اور سُننے والے مبہوت بیٹھے اس کے چہرے کو تکے جاتے تھے. داستان میں کسی ڈرامائی موڑ کے داخلے کے ساتھ ہی اس کی آواز بلند ہو جاتی، اس کے ہاتھوں کی حرکت اور تیز ہوجاتی، اور پھر ایک خاص لمحے پر وہ داستان ایسے ختم کرتا کہ ہمارا دل کرتا کہ مسز سادات ، اللہ ان پر رحم کرے بہت اچھی استاد تھیں اسلامیات کی، کبھی بھی کلاس کے لئے نہ آئیں اور ہم یہ داستان سنتے رہیں.
میں اکثر اشفاق سے حسد کرتا. میرے خیال میں وہ بہت خوش قسمت تھا کہ اس کے ساتھ اکثر وہ واقعات پیش آتے جو ہم کہانیوں میں ہیروز کے ساتھ پیش آتے دیکھتے اور کس طرح وہ اپنی ذہانت سے ان کو حل کر کے نکل جاتا. مگر تعلیمی میدان میں معاملہ دوسرا تھا. میں اول آتا، سید آصف دوم اور اسی طرح مدارج گرتے جاتے. اشفاق کا نمبر سب سے آخر میں آتا تھا. مجھے یاد نہیں اس نے پرائمری میں بورڈ کے امتحان میں کتنے نمبر لئے اور پھر کس سکول میں گیا مگر اتنا ضرور علم ہوا کہ اس کی محفل کے باقاعدہ حاضرین میں سے کوئی ٹیکسہی چلاتا ہے، تو کوئی ویلڈنگ کی دکان پہ بیٹھا ہوا ہے.
2003 میں ایک مرتبہ میں پشاور صرف اسی مقصد کے لئے گیا کہ میں اپنے ان دوستوں سے مل سکوں. بہت سوں کے گھروں تک پہنچ گیا، کچھ سے ملاقات ہوئی، کچھ سے نہ ہو سکی اور یوں اشفاق کے بارے میں علم نہ ہو سکا کہ اس کا کیا بنا.
اشفاق کے بعد بہت سے ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی اور میں نے آہستہ آہستہ محسوس کرنا شروع کیا کہ ان سب کی داستانیں قدرے مشترک ہیں. ان کے تخیل کی اڑان کی اساسی قدریں تو ایک جیس ہی ہیں.
ایک افسانوی ماحول، داستان گو کی ذات اتنی اہم کہ فریق مخالف کے چھکے چھوٹ جائیں، اور بڑی سے بڑی قانون شکنی پر بھی کوئی انھیں کچھ نہ کہہ سکے.
شائد اشفاق نے مجھے اتنا متاءثر کیا تھا کہ میں ہر داستان گو میں اس کی جھلک ڈھونڈنے پر مجبور ہوجاتا تھا.
یہ تو بہت بعد میں علم ہوا کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے. لوگ یہ سب کچھ کسی نفسیاتی گرہ کے زیر اثر کرتے ہیں.
بہت سے لوگ کسی احساس کمتری کے زیر اثر یہ سب کچھ کرتے نظر آتے ہیں. کچھ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے لئے، کچھ شائد دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ، اور کچھ نفسیاتی بیمار ہوتے ہیں.
تصویر کا یہ دوسرا پہلو اتنا اچھا نہیں ہے مگر بغور دیکھا جائے تو ہم میں سے بہت کم لوگ حقیقت کو تسلیم کر پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اکثریت حقیقت سے فرار کا کوئی نہ کوئی راستہ نکا ل ہی لیتی ہے. اس فرار کے وقتی فوائد تو بہت اچھے ہوتے ہیں، مگر یہ کامیاب کوشش اکثر ایک ایسی مستقل حالت کا پیش خیمہ بن جاتی ہے جس میں مریض اپنی کاہلی اور بے عملی پر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا کر خود دوبارہ خواب دیکھتا رہتا ہے.
اس کا حل ممکن ہے؟ میرا خیال ہے ، ان لوگوں کے علاوہ جو کہ واقعی کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہیں اور ان کا علاج موجود ہے، اس کا حل قناعت پسندی اور اللہ پر توکل میں ہے. جتنا جلد اگر مریض اس بات کی تہہ کو پا لے کہ دن میں خواب دیکھنے سے نہیں بلکہ مسائل ہاتھ پیر ہلانے سے حل ہو ں گے ، اتنا ہی اچھا ہے.
پس نوشت:: سوائے میرے اور مسز سادات کے، تمام لوگوں کے نام تبدیل کر دئیے گئے ہیں.

